واشنگٹن (سب نیوز)امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران میں موجود تمام اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے امریکا کو صرف 2 ہفتے درکار ہوں گے۔ ان کے مطابق ایران فوجی طور پر شکست کھا چکا ہے تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ صورت حال مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔
انڈیپنڈنٹ جرنلسٹ شریل اٹکنسن کو دیے گئے انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعوی کیا کہ ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں میں نمایاں پیش رفت ہو چکی ہے۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے ایران میں اب تک تقریبا 70 فیصد اہداف کو نشانہ بنایا ہے جب کہ مزید اہداف اب بھی موجود ہیں، جنہیں ضرورت پڑنے پر نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر کارروائی جاری رہی تو دو ہفتوں میں تمام اہداف کو مکمل طور پر نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران اپنے ذہن میں شاید صورت حال کو مختلف انداز میں دیکھتا ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ فوجی طور پر شکست کھا چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ معاملہ مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے، بلکہ یہ صرف آخری مراحل ہوں گے۔اسی انٹرویو میں امریکی صدر نے نیٹو پر بھی تنقید کرتے ہوئے اسے پیپر ٹائیگر قرار دیا اور کہا کہ مغربی اتحاد کے اتحادی ایران کے خلاف کارروائی میں امریکا کا ساتھ دینے میں ناکام رہے ہیں۔ نیٹو کے حوالے سے ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ اتحاد توقع کے مطابق کردار ادا نہیں کر سکا۔
رپورٹ کے مطابق یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران کی جانب سے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی تازہ تجاویز پر ردعمل دیا جا رہا ہے جب کہ خطے میں کشیدگی بدستور جاری ہے۔
امریکا کو ایران کے تمام اہداف پر حملے کیلئے 2ہفتے درکار ہوں گے، امریکی صدر ٹرمپ
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
