Saturday, May 9, 2026
ہوماسلام آبادحکومت کی تاجر دشمن پالیسیوں کیخلاف جدوجہد جاری رہے گی، کاشف چوہدری

حکومت کی تاجر دشمن پالیسیوں کیخلاف جدوجہد جاری رہے گی، کاشف چوہدری

اسلام آباد،مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر محمد کاشف چوہدری نے کہا ہے کہ دکانوں پر پوائنٹ آف سیلز لگانے ،چھوٹے تاجروں کی جبری سیلز ٹیکس رجسٹریشن، پراپر ٹی ٹیکس میں 3 گنا اضافہ کے خلاف ملک گیر تاجر کنونشن میں حکومت کی جانب سے تاجر دشمن پالیسیوں کے خلاف جدوجہد کو جاری رہے گی، وزیراعظم عمران خان کو صدارتی آرڈینینس، پوائنٹ آف سیلز،پراپر ٹی ٹیکس میں اضافہ سمیت نت نئے ٹیکسز بارے مناظرے کا چیلنج کرتے ھوئے کہا کہ عمران خان تاجر نمائندوں کے ساتھ فی الفور مناظرہ کریں۔
ھم ثابت کریں گے کہ پوائنٹ آف سیلز کے زریعے قومی آمدن میں اضافہ نہیں ھو گا تو وزیراعظم پوائنٹ آف سیلز، پراپر ٹی ٹیکس واپس لینے کا اعلان کریں اور تاجر نمائندوں کے ساتھ کئے گئے وعدوں کی پاسداری کریں بصورت دیگر تاجر نہ گرفتاریوں سے ڈرنے والے ہیں نہ جیلوں سے اور نہ ہی مقدمات سے گھبرانے والے ہیں حکومتی طاقت کے بل بوتے پر شب خون نہیں مارنے دیں گے ورنہ اب دھرنا نہیں بلکہ ظلم کے خلاف جنگ ہو گی کیونکہ سود خور مالیاتی ادارہ پاکستان کی آنے والی نسلوں کو تباہ و برباد کرنے جارہا ہے جب تک حکومت مطالبات تسلیم نہیں کر لیتی تاجر کسی صورت پراپرٹی ٹیکس نہ دیں ملک بھر کے لاکھوں تاجر 27ستمبر کو شاہراہ دستور کا رخ سروں پر کفن باندھ کر کریں۔ مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے زیراہتمام منعقدہ ملک گیر تاجر کنونشن میں نمائندہ تاجر رہنمائوں نے مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کیا جس کی صدارت مر کزی تنظیم تاجران پاکستان کے مرکزی صدر کاشف چوھدری، مرکزی چیئرمین خواجہ سلیمان صدیقی نے کی۔ تاجر کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی صدر کاشف چوھدری، مرکزی چیئرمین خواجہ سلیمان صدیقی نے کہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے 1988میں جی ایس ٹی کے نام سے ٹیکس لگایا بعدازاں اس کے مختلف نام بدلتے رہے اور موجودہ حکومت نے اس کا نام پوائنٹ آف سیلز رکھ دیا ہے گذشتہ 33سالوں سے ظالمانہ ٹیکسز کے مشکل ترین نظام کے خلاف جدوجہد کرتے آرہے ہیں موجودہ حکومت نے گذشتہ تین سالوں کے دوران چھوٹے تاجر کو دیا کیا ہے جب جی چاہتا ہے کروناوباکی آڑ میں لاک ڈاون لگادیتے ہیں اوقات کار تبدیل کردیتے ہیں جس کی وجہ سے پولیس کی اتنی موجیں گذشتہ 50برسوں کے دوران نہیں لگیں جتنی موجودہ دور حکومت میں لگی ہوئی ہیں جو تاجروں، دکانداروں کو کبھی اوقات کار تبدیلی کی مد میں تو کبھی سیفٹی ماسک، سیناٹائزر کا بہانہ بناکر اس طرح اٹھا کر لے جاتے ہیں جیسے ہم چور، ڈاکو ہیں ہمارے ہی ٹیکسز پہ پلنے والے ہمیں ہی آئے روز بے بنیاد مقدمات کے اندراج کرکے جیلوں میں ڈال دیتے ہیں اگر ہم آج ٹیکس دینا بند کردیں تو کسی پولیس کے گھر میں روٹی نہیں پکے گی پاکستان واحد ملک ہے جہاں پر پراپر ٹی ٹیکس میں تین سو فی صد تک اضافہ کردیا ہے حکمران ہوش کے ناخن لیں پی او ایس اور پراپر ٹی ٹیکس میں اضافہ کے فیصلے کو کلی طور پر مسترد کرتے ہیں اسی لئے اب بھی وقت ہے کہ حکمران ہوش کے ناخن لیں ہم تو پہلے ہی ٹیکس دے رہے ہیں لیکن چاہتے ہیں کہ فکسڈ ٹیکس کا آسان نظام وضع کیاجائے ورنہ حکمران ہماری لاشوں سے بھی گزر جائیں ظالمانہ ٹیکسز کا نظام نافذ نہیں ہونے دیں گے 43قسم کے ٹیکس تاجر طبقہ اور عام شہری دے رہے ہیں اب اسلام آباد میں دھرنا نہیں بلکہ حکمرانوں کے ظالما نہ نظام کے خلاف جہاد ہو گا انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ کے دعویداروں کا بس چلے تو یہ ہوا اور سانس پر بھی ٹیکس لگادیں۔عمران خان حکومت نے تین سال قبل جو وعدے کئے وہ کہاں گئے ۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔