Saturday, May 2, 2026
ہومکالم وبلاگزکالمزتمباکو ٹیکسیشن،پاکستان کے لیے ایک اہم عوامی صحت اور معاشی تقاضا

تمباکو ٹیکسیشن،پاکستان کے لیے ایک اہم عوامی صحت اور معاشی تقاضا

تحریر۔۔اشفاق احمد
تمباکو پر ٹیکس عائد کرنا دنیا بھر میں تمباکو کے استعمال کو کم کرنے اور عوامی صحت کے تحفظ کے لیے ایک موثر اور شواہد پر مبنی حکمتِ عملی کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق تمباکو پر ٹیکس بڑھانے سے براہِ راست اس کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے، جس سے تمباکو نوشی کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے، خصوصا نوجوانوں اور کم آمدنی والے طبقات میں جو قیمتوں میں تبدیلی کے لیے زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ عالمی شواہد کے مطابق تمباکو کی قیمت میں 10 فیصد اضافہ، بلند آمدنی والے ممالک میں تقریبا 4 فیصد اور کم و متوسط آمدنی والے ممالک میں تقریبا 5 فیصد کمی کا باعث بنتا ہے۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مالیاتی پالیسیاں نہ صرف معاشی آلات ہیں بلکہ عوامی صحت کے مثر ذرائع بھی ہیں۔ٹیکس کی افادیت عالمی تخمینوں سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق اگر حکومتیں تمباکو پر ایکسائز ٹیکس اس حد تک بڑھا دیں کہ سگریٹ کی قیمتوں میں دنیا بھر میں 50 فیصد اضافہ ہو جائے تو اس کے نتیجے میں 4 کروڑ 90 لاکھ افراد تمباکو نوشی چھوڑ سکتے ہیں اور تقریبا 1 کروڑ 10 لاکھ تمباکو سے متعلق اموات کو روکا جا سکتا ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کو اجاگر کرتے ہیں کہ اگر ٹیکسیشن پالیسیوں کو مثر اور مستقل انداز میں نافذ کیا جائے تو ان میں تبدیلی لانے کی غیر معمولی صلاحیت موجود ہے۔پاکستان میں تمباکو ٹیکسیشن کو مضبوط بنانے کی ضرورت خاص طور پر نمایاں ہے۔ موجودہ اعداد و شمار کے مطابق 3 کروڑ 16 لاکھ بالغ افرادیعنی تقریبا 19.9 فیصد بالغ آبادیتمباکو استعمال کرتے ہیں، جو ملک کے صحت کے نظام اور معیشت پر بھاری بوجھ ڈالتا ہے۔ تمباکو کا استعمال ہر سال 1 لاکھ 63 ہزار سے زائد اموات کا سبب بنتا ہے، جو اسے ملک میں قابلِ تدارک اموات کی بڑی وجوہات میں شامل کرتا ہے۔ انسانی جانوں کے ضیاع کے علاوہ، تمباکو سے متعلق بیماریوں کے باعث مالی بوجھ بھی بہت زیادہ ہے۔ اندازوں کے مطابق تمباکو نوشی سے متعلق بیماریوں اور قبل از وقت اموات کے باعث پاکستان کو سالانہ اپنی مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا تقریبا 1.4 فیصد نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ صحت کے اخراجات اور پیداواری صلاحیت میں کمی ہے۔پاکستان میں حالیہ مالیاتی اصلاحات سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ تمباکو ٹیکسیشن ایک سہ جہتی فائدہ فراہم کر سکتی ہے: تمباکو نوشی میں کمی، حکومتی آمدن میں اضافہ، اور صحت کے اخراجات میں کمی۔

مثال کے طور پر سال 2022-23کے دوران سگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) کے ڈھانچے میں اصلاحات سے نمایاں آمدنی میں اضافہ ہوا۔ جولائی 2023 سے جنوری 2024 کے درمیان تمباکو سے متعلق FED کی وصولیاں تقریبا 122 ارب روپے تک پہنچ گئیں، جبکہ سالانہ آمدن 200 ارب روپے سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔ ان اصلاحات سے سیلز ٹیکس کی مد میں اضافی 60 ارب روپے حاصل ہونے کی بھی توقع ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ مضبوط تمباکو ٹیکس پالیسیز عوامی مالیات کو مستحکم بنا سکتی ہیں۔تاہم، پاکستان کے تمباکو ٹیکس کے موجودہ ڈھانچے میں اب بھی کمزوریاں موجود ہیں، جن سے تمباکو انڈسٹری اپنی مصنوعات کو نسبتا سستا رکھنے میں کامیاب رہتی ہے۔ موجودہ دو سطحی FED نظام، جس میں مختلف قیمتوں کے مطابق سگریٹ پر مختلف ٹیکس عائد ہوتا ہے، صنعت کو قیمتوں میں ہیرا پھیری اور صارفین کو سستے برانڈز کی طرف منتقل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ بین الاقوامی بہترین عمل کے مطابق تمباکو پر ٹیکس سگریٹ کی ریٹیل قیمت کا کم از کم 75 فیصد ہونا چاہیے اور اسے باقاعدگی سے مہنگائی اور آمدنی میں اضافے کے مطابق ایڈجسٹ کیا جانا چاہیے۔تمباکو ٹیکسیشن کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ٹیکس کے ڈھانچے کو سادہ بنایا جائے، ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کیا جائے، اور موجودہ خامیوں کو دور کیا جائے۔ اس سے نہ صرف پاکستان عالمی عوامی صحت کے معیارات کے مطابق ہو جائے گا بلکہ تمباکو کے استعمال میں کمی، نوجوانوں کو نکوٹین کی لت سے بچانے، اور صحت و ترقی کے لیے اہم وسائل فراہم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔آخرکار، تمباکو ٹیکسیشن محض ایک مالیاتی پالیسی نہیں بلکہ ایک جان بچانے والی مداخلت ہے۔ پاکستان کے لیے تمباکو ٹیکس کے حوالے سے فیصلہ کن اور مستقل اقدامات نہ صرف عوامی صحت کی ضرورت ہیں بلکہ آئندہ نسلوں کی فلاح و بہبود کے تحفظ کے لیے ایک اہم معاشی موقع بھی ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔