کالم نگار: ثمن سرفراز
آج کے دور میں مہنگائی ایک ایسا مسئلہ بن چکی ہے جو ہر گھر کی دہلیز پر دستک دے رہا ہے۔ یہ صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں رہا بلکہ ایک سماجی اور نفسیاتی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ روزمرہ استعمال کی اشیاء جیسے آٹا، چینی، گھی، سبزیاں اور پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عام آدمی کی زندگی کو مشکل سے مشکل تر بنا رہا ہے۔ تنخواہیں محدود ہیں جبکہ اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے، جس کے باعث متوسط اور نچلے طبقے کے افراد شدید دباؤ کا شکار ہیں۔
ایک وقت تھا جب ایک شخص اپنی محدود آمدنی میں گھر کا نظام بآسانی چلا لیتا تھا، مگر آج حالات یکسر بدل چکے ہیں۔ اب ایک فرد کو اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی کئی بار سوچنا پڑتا ہے۔ بچوں کی تعلیم، علاج معالجہ اور دیگر ضروری اخراجات اس کے لیے ایک بوجھ بن چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں بے چینی، مایوسی اور ذہنی دباؤ میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
مہنگائی کے اس طوفان کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں غیر متوازن معاشی پالیسیاں، کرپشن، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری شامل ہیں۔ کچھ عناصر مصنوعی قلت پیدا کر کے اشیاء کی قیمتیں بڑھا دیتے ہیں تاکہ زیادہ منافع حاصل کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مہنگائی اور درآمدی اشیاء پر انحصار بھی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔
تاہم، یہ کہنا بھی درست ہوگا کہ اس مسئلے میں کہیں نہ کہیں عوام کا کردار بھی شامل ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگ غیر ضروری اشیاء خریدنے، برانڈز کی دوڑ میں شامل ہونے اور فضول خرچی کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ یہ رویے نہ صرف ہماری ذاتی مالی حالت کو متاثر کرتے ہیں بلکہ مجموعی طور پر معیشت پر بھی منفی اثر ڈالتے ہیں۔
اگر ہم اس مسئلے کے حل کی بات کریں تو سب سے پہلے حکومت کو ٹھوس اور مؤثر اقدامات کرنے ہوں گے۔ مارکیٹ میں قیمتوں کی نگرانی کو یقینی بنایا جائے، ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے سبسڈی اور دیگر سہولیات دی جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی صنعت کو فروغ دینا بھی ضروری ہے تاکہ درآمدات پر انحصار کم کیا جا سکے۔
دوسری جانب، عوام کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ سادہ طرزِ زندگی اپنانا، غیر ضروری اخراجات سے گریز کرنا اور مقامی مصنوعات کو ترجیح دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر ہر فرد اپنی سطح پر تھوڑی سی تبدیلی لے آئے تو مجموعی طور پر بڑا فرق پیدا کیا جا سکتا ہے۔
مزید برآں، نوجوان نسل کو چاہیے کہ وہ خود کو صرف روایتی ملازمتوں تک محدود نہ رکھے بلکہ نئے مواقع تلاش کرے، ہنر سیکھے اور خود کفالت کی طرف قدم بڑھائے۔ اس طرح نہ صرف ان کی ذاتی حالت بہتر ہوگی بلکہ ملکی معیشت کو بھی سہارا ملے گا۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ مہنگائی ایک ایسا چیلنج ہے جس سے مکمل طور پر بچنا شاید ممکن نہ ہو، مگر دانشمندی، منصوبہ بندی اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے اس کے اثرات کو ضرور کم کیا جا سکتا ہے۔ حکومت اور عوام اگر ایک ہی سمت میں قدم بڑھائیں تو یہ طوفان بھی تھم سکتا ہے اور ایک مستحکم، خوشحال معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔

