Thursday, April 30, 2026
ہومبریکنگ نیوز’ بانی پی ٹی آئی کو 22 گھنٹے، بشریٰ بی بی کو 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جا رہا ہے ‘اسلام آباد ہائیکورٹ میں اہم انکشافات

’ بانی پی ٹی آئی کو 22 گھنٹے، بشریٰ بی بی کو 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جا رہا ہے ‘اسلام آباد ہائیکورٹ میں اہم انکشافات

اسلام آباد(آئی پی ایس) اسلام آباد ہائیکورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی اپیلوں اور سزا معطلی درخواستوں پر سماعت کے دوران وکیل نے قیدِ تنہائی اور صحت سے متعلق سنگین خدشات اٹھا دیے، جبکہ عدالت نے اپیلوں پر جلد سماعت کا عندیہ دے دیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی اپیلوں اور سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل بینچ نے کی۔

سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر جبکہ نیب کی جانب سے پراسیکیوٹر جاوید اشرف اور رافع مقصود عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ 8 اپریل کو عدالتی حکم پر ان کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوئی، تاہم اس دوران بشریٰ بی بی سے ملاقات نہیں کرائی گئی، حالانکہ یہ عدالتی احکامات کے برعکس تھا۔ ان کے مطابق بشریٰ بی بی سے ان کی آخری ملاقات 20 دسمبر 2025 کو ہوئی تھی۔

وکیل نے بتایا کہ ملاقات کے دوران کچھ تشویشناک امور سامنے آئے، جن میں بانی پی ٹی آئی کی بینائی متاثر ہونے کا معاملہ بھی شامل ہے۔ ان کے مطابق بانی نے بتایا کہ ان کی 85 فیصد بینائی متاثر ہو چکی ہے اور ایک آنکھ سے دیکھنے میں بھی دشواری ہے، جبکہ ڈاکٹروں نے بہتری کے امکانات کم ظاہر کیے ہیں۔

سلمان صفدر نے عدالت کو بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کو 22 گھنٹے جبکہ بشریٰ بی بی کو 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جا رہا ہے، جو ان کے بقول غیر ضروری اور انسانی حقوق کے منافی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ عدالتی فیصلے میں قید تنہائی کی کوئی سزا شامل نہیں، تو پھر جیل حکام اس کا اطلاق کیوں کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دونوں کی آنکھوں کی خرابی باعث تشویش ہے اور سوال کیا کہ آیا اڈیالہ جیل میں کوئی ایسا مسئلہ موجود ہے جو قیدیوں کی بینائی کو متاثر کر رہا ہے۔ وکیل کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو حال ہی میں علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا کیونکہ جیل میں مناسب طبی سہولتیں دستیاب نہیں۔
وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ آئی جی جیل خانہ جات، جیل سپرنٹنڈنٹ اور متعلقہ ڈاکٹرز کو طلب کر کے صورتحال واضح کی جائے، اور قید تنہائی کے معاملے کا فوری حل نکالا جائے۔ انہوں نے نیلسن منڈیلا رولز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ طویل عرصے تک قید تنہائی کو تشدد تصور کیا جاتا ہے۔

دوسری جانب چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے استفسار کیا کہ اپیلوں پر دلائل کیوں نہیں دیے جا رہے۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ عدالت اپیل سننے کے لیے تیار ہے اور روزانہ کی بنیاد پر سماعت کر کے جلد فیصلہ کر سکتی ہے۔
بیرسٹر سلمان صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل نے انہیں پہلے سزا معطلی کی درخواستوں پر دلائل دینے کی ہدایت کی ہے، جبکہ اپیلوں پر دلائل کے لیے ممکنہ طور پر دیگر وکیل پیش ہوں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ مکمل فائل کا جائزہ لینے کے بعد ہی مؤثر دلائل دے سکیں گے۔

عدالت نے کیس کی مزید سماعت ملتوی کرتے ہوئے فریقین کو آئندہ کارروائی کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔