واشنگٹن(آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے امریکی بحریہ کو حکم دیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی کسی بھی کشتی کو دیکھتے ہی تباہ کردیا جائے۔سوشل میڈیا پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ میں نے امریکی نیوی کو حکم دیا ہے کہ وہ کسی بھی کشتی خواہ وہ چھوٹی ہی کیوں نہ ہو جو آبنائے ہرمز کے پانیوں میں بارودی سرنگیں بچھائے اسے فورا نشانہ بنا کر تباہ کر دے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکی بحریہ آبنائے ہرمز کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کے لیے اپنی کارروائیوں میں 3 گنا اضافہ کرے گی۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے گرد سمندری علاقوں میں فوجی سرگرمیاں تیز ہو رہی ہیں حالانکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کی گئی ہے۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے مطابق جمعرات کے روز امریکی افواج نے رات کے وقت پابندیوں کی زد میں آنے والے بغیر رجسٹریشن والے جہاز ایم ٹی ایکس مجیسٹک کو تحویل میں لیا جو ایران کا تیل لے جا رہا تھا۔
اس سے قبل امریکا نے بتایا تھا کہ اس کا ایک جنگی بحری جہاز ایرانی روابط رکھنے والے ایک اور آئل ٹینکر ڈورینا کو اسکارٹ کر رہا ہے جس نے مبینہ طور پر امریکی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی کوشش کی تھی۔ یاد رہے کہ امریکا نے ایران کی بندرگاہوں پر جوابی کارروائی کے طور پر بحری ناکہ بندی (نیول بلاکیڈ) عائد کر دی ہے تاکہ تہران کو اس آبی گزرگاہ پر اپنی گرفت نرم کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔
امریکی فوج کے مرکزی کمانڈ کے مطابق اب تک اس ناکہ بندی کے تحت 31 جہازوں کو یا تو واپس مڑنے یا اپنی بندرگاہوں کی طرف لوٹنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ دوسری جانب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا جہاں برینٹ کروڈ کی قیمت ایک فیصد بڑھ کر 103 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
یاد رہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں 2 تجارتی جہازوں کو قبضے میں لینے اور تیسرے کو نشانہ بنانے کے بعد تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔یہ کارروائیاں تقریبا 8 ہفتے قبل شروع ہونے والی جنگ کے بعد پہلی بار سامنے آئی ہیں۔ بعد ازاں ایک اور پوسٹ میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران اس وقت اس بات کا فیصلہ کرنے میں بہت مشکل کا سامنا کر رہا ہے کہ ان کا اصل لیڈر کون ہے اور انہیں خود بھی سمجھ نہیں آ رہی۔
