لاہور(آئی پی ایس )پنجاب اسمبلی نے ٹریفک جرمانوں میں کمی سے متعلق ترامیمی بل کو اکثریتی رائے سے منظور کر لیا ہے، تاہم اس قانون کے نافذ العمل ہونے کے لیے گورنر پنجاب کی حتمی منظوری درکار ہوگی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ بل قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی سفارشات کی روشنی میں ایوان میں پیش کیا گیا، جسے ارکان کی اکثریت نے منظور کر لیا۔اس سے قبل یکم اپریل کو بھی چالانوں میں کمی سے متعلق ترامیم کی منظوری دی گئی تھی، جنہیں صوبائی موٹر وہیکل (چوتھی ترمیم) 2025 آرڈیننس کے تحت باقاعدہ شکل دی گئی۔
منظور شدہ ترامیم کے مطابق موٹر سائیکل کے بعض جرمانے 2 ہزار روپے سے کم کر کے ایک ہزار روپے کر دیے گئے ہیں، جبکہ زیادہ سے زیادہ چالان کی حد 2 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔رکشہ ڈرائیورز کے لیے کچھ خلاف ورزیوں پر جرمانہ 3 ہزار سے کم کر کے ایک ہزار روپے کر دیا گیا ہے، جبکہ سنگین خلاف ورزی کی صورت میں 2 ہزار روپے جرمانہ عائد ہوگا۔اسی طرح کار اور جیپ کے لیے بعض جرمانے 5 ہزار سے کم کر کے 2 ہزار روپے کر دیے گئے ہیں، تاہم سنگین ٹریفک خلاف ورزیوں پر 5 ہزار روپے جرمانہ برقرار رکھا گیا ہے۔ اوور اسپیڈنگ کے جرمانوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
مزید برآں 2000 سی سی اور اس سے زیادہ لگژری گاڑیوں کے جرمانے 20 ہزار سے کم کر کے 10 ہزار روپے کر دیے گئے ہیں، جبکہ ان کے لیے کم از کم جرمانہ 2 ہزار اور زیادہ سے زیادہ 10 ہزار روپے مقرر کیا گیا ہے۔مزدا، کوسٹر اور دیگر ہلکی مسافر گاڑیوں کے جرمانے 20 ہزار سے کم کر کے 7 ہزار روپے کر دیے گئے ہیں۔بھاری گاڑیوں جیسے ٹرک اور بسوں کے لیے بھی زیادہ سے زیادہ جرمانہ 20 ہزار سے کم کر کے 10 ہزار روپے کر دیا گیا ہے۔
