باکو(آئی پی ایس )آذربائیجان کی سرکاری توانائی کمپنی سوکار نے پاکستان کو مائع قدرتی گیس (ایل این جی) فراہم کرنے کی باضابطہ پیشکش کردی ہے، جس کا مقصد ملک میں توانائی کے بڑھتے ہوئے بحران اور گیس کی قلت کو دور کرنا ہے۔عالمی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے سوکار کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ وہ اسلام آباد کی جانب سے درخواست موصول ہوتے ہی ایل این جی کے کارگو فراہم کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
آذربائیجان کی جانب سے یہ پیشکش ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کو موسمِ گرما کے آغاز سے قبل ہی بجلی کی لوڈشیڈنگ اور گیس کی کمی کا سامنا ہے۔ سوکار اور پاکستان ایل این جی لمیٹڈ کے درمیان 2025 میں ہونے والے فریم ورک معاہدے کے تحت پاکستان براہِ راست اور تیز رفتار طریقہ کار کے ذریعے گیس کے کارگو خریدنے کا حق رکھتا ہے۔
اگرچہ تاحال یہ واضح نہیں کہ پاکستان نے باضابطہ طور پر کارگو کے لیے درخواست دی ہے یا نہیں، لیکن آذربائیجان نے واضح کردیا ہے کہ وہ فوری فراہمی کے لیے تیار ہے۔ پاکستان اس وقت توانائی کے لیے گیس پر شدید انحصار کررہا ہے، تاہم ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے باعث عالمی سطح پر ایل این جی کی قیمتوں میں اتار چڑھا اور رسد میں رکاوٹوں نے پاکستان کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔
گزشتہ روز یہ خبر بھی سامنے آئی تھی کہ قطر اور پاکستان کے درمیان 4 ایل این جی کارگو کی فراہمی کے حوالے سے مذاکرات آخری مراحل میں ہیں، جو کہ آبنائے ہرمز کے راستے پہنچ سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ بجلی کے شعبے نے توانائی کی طلب پوری کرنے کے لیے پہلے ہی پیٹرولیم ڈویژن کو یومیہ 400 ملین کیوبک فٹ ایل این جی فراہم کرنے کی فرمائش کر رکھی ہے۔
