اسلام آباد:(سب نیوز) ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے ضروری ادویات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے متعلق زیرِ گردش خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔
ترجمان ڈریپ کے مطابق ضروری ادویات، بشمول انسولین اور دیگر جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران ضروری ادویات کی قیمتوں میں کسی نئے اضافے کی منظوری بھی نہیں دی گئی۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ضروری ادویات کی فہرست میں شامل ادویات کی قیمتوں میں فارماسیوٹیکل کمپنیاں از خود اضافہ نہیں کر سکتیں، اور اس حوالے سے ڈریپ کڑی نگرانی کو یقینی بنا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ادویات کی دستیابی برقرار رکھنے اور فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ بطور ریگولیٹر ڈریپ نے فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو دو اہم ایڈوائزریز بھی جاری کی ہیں۔
ایڈوائزریز کے تحت کمپنیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خام مال کے حصول کے متعدد ذرائع اختیار کریں اور مناسب ذخیرہ برقرار رکھیں تاکہ عالمی سپلائی چین میں ممکنہ رکاوٹوں کے باعث ادویات کی قلت سے بچا جا سکے۔
ترجمان کے مطابق پاکستان میں استعمال ہونے والی تقریباً 85 فیصد ادویات مقامی طور پر تیار کی جاتی ہیں، اور موجودہ عالمی یا علاقائی حالات کے باوجود ادویات کی فراہمی پر کوئی خاص اثر نہیں پڑ رہا۔
انہوں نے مزید کہا کہ فارماسیوٹیکل صنعت کے رہنماؤں کے مطابق اس وقت ملک میں ادویات کی کمی کا کوئی فوری خطرہ نہیں، اور بیشتر کمپنیوں کے پاس آئندہ 4 سے 6 ماہ کے لیے خام مال اور تیار ادویات کا وافر ذخیرہ موجود ہے۔
ڈریپ نے تمام میڈیا ہاؤسز سے اپیل کی ہے کہ خبر کی اشاعت سے قبل اتھارٹی سے تصدیق ضرور کریں تاکہ عوام میں غیر ضروری تشویش اور بے چینی پیدا نہ ہو۔
ترجمان کے مطابق ڈریپ عوام کو محفوظ، مؤثر اور معیاری ادویات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
