تحریر: محمد محسن اقبال
عالمی سیاست کا موجودہ لمحہ تاریخ کے اُن نازک اور غیرمعمولی ادوار کی یاد دلاتا ہے جب واقعات اس تیزی اور بے یقینی کے ساتھ رونما ہوتے ہیں کہ تجربہ کار مبصرین بھی یقینی رائے قائم کرنے سے قاصر رہ جاتے ہیں۔ جو کچھ کبھی محض ایک بعید از قیاس امکان سمجھا جاتا تھا، اب حیرت انگیز تسلسل کے ساتھ حقیقت کا روپ دھار رہا ہے، گویا احتیاط، تدبر اور اجتماعی دانش کی تمام بندشیں خاموشی سے تحلیل ہو چکی ہوں۔ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی اسی خطرناک تبدیلی کی ایک نمایاں مثال بن چکی ہے۔
ایک طویل عرصے تک یہ سمجھا جاتا رہا کہ ایران سے متعلق کسی بھی کشیدگی کا انجام ایک مانوس طرز پر ہوگا؛ محدود نوعیت کے جوابی حملے، علامتی میزائل کارروائیاں، اور بالآخر ایک غیر اعلانیہ مفاہمت کے تحت مذاکرات کی میز پر واپسی۔ مگر موجودہ بحران نے ان تمام قیاسات کو جھٹلا دیا ہے۔ غزہ کا المیہ، جہاں اسرائیل نے براہِ راست طاقت کا استعمال کیا اور امریکہ نے خاموش تائید فراہم کی، جدید تاریخ کے تاریک ترین ابواب میں اپنا مقام حاصل کر چکا ہے۔ عالمی برادری کا اخلاقی احتجاج اگرچہ وسیع پیمانے پر سامنے آیا، مگر اس کی عملی تاثیر نہ ہونے کے برابر رہی؛ مذمت تو بہت ہوئی، مگر فیصلہ کن اقدام کہیں دکھائی نہ دیا۔
اسی پس منظر میں برطانیہ کے اندر سے اٹھنے والی حالیہ آوازیں ایک اخلاقی جرات کی علامت ہیں۔ مارچ 2026 کے اوائل میں تقریباً پینتالیس اراکینِ پارلیمان—جن میں ہاؤس آف کامنز اور ہاؤس آف لارڈز دونوں کے نمائندے شامل تھے—نے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کو ایک کھلا خط ارسال کیا۔ اس خط پر لیلیٰ موران، نادیہ وِٹوم اور کارلا ڈینئیر جیسی شخصیات کے دستخط موجود تھے، جو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک غیرمعمولی ہم آہنگی کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ 1917 سے 1948 تک فلسطین میں اپنے تاریخی کردار کا باضابطہ اعتراف کرے اور معذرت پیش کرے۔
اس مطالبے کے مرکز میں بالفور اعلامیہ اور اس کے بعد قائم ہونے والا برطانوی مینڈیٹ ہے، جس کا اختتام 1948 میں اسرائیل کے قیام سے قبل برطانیہ کے فلسطین سے انخلا پر ہوا۔ خط کے دستخط کنندگان کے مطابق برطانیہ نے اپنے استعماری اختیار کے استعمال میں بین الاقوامی قانون کے مسلمہ اصولوں کو نظرانداز کیا، فلسطینی عربوں کو حقِ خودارادیت سے محروم رکھا، اور ایک ایسا اختیار استعمال کیا جس کا اسے کوئی حق حاصل نہ تھا—یعنی ایک سرزمین اور اس کے باشندوں کے مستقبل کا فیصلہ کرنا۔ ان فیصلوں کے اثرات آج بھی اس تنازع میں گونج رہے ہیں جو تاحال حل طلب ہے۔
شاید اسی عالمی بے عملی نے واشنگٹن اور تل ابیب کو تہران کے عزم کا غلط اندازہ لگانے پر آمادہ کیا۔ ایران کا ردِعمل محض علامتی نہ تھا بلکہ غیرمعمولی شدت اور وسعت کا حامل تھا، جس نے توقعات کو پیچھے چھوڑ دیا اور تنازع کے توازن کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ ماضی میں امریکہ کو اپنے اتحادیوں، خصوصاً یورپی ممالک کی متوقع حمایت حاصل رہتی تھی، مگر اس بار منظر نامہ مختلف ہے۔ برطانیہ سمیت یورپ کے دیگر روایتی شراکت داروں نے غیرمعمولی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا ہے؛ نہ تو غیرمشروط حمایت سامنے آئی اور نہ ہی عملی شرکت۔ یہ رویہ محض حکمتِ عملی کی تاخیر نہیں بلکہ شاید طویل اور پیچیدہ تنازعات سے پیدا ہونے والی ایک گہری تھکن کی علامت ہے۔
اسی طرح خلیجی ریاستوں کا موقف بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ جو ممالک ماضی میں امریکی مفادات کے ساتھ ہم آہنگ سمجھے جاتے تھے، وہ اب خود کو جنگ کے براہِ راست اثرات کے سامنے کھڑا پاتے ہیں۔ ان کی جانب سے امریکہ کی مدد میں ہچکچاہٹ دراصل اپنی کمزوریوں کا ایک حقیقت پسندانہ ادراک ہے۔ اب جنگ کا میدان ان کے دروازوں کے قریب آ چکا ہے، اور اس کے نتائج فوری اور ٹھوس صورت اختیار کر چکے ہیں۔
خلیج میں امریکی مفادات سے وابستہ تنصیبات پر ایرانی حملوں کی اطلاعات، اور ان کے دفاع میں امریکہ کی مبینہ ناکامی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ چاہے یہ اطلاعات مبالغہ آمیز ہی کیوں نہ ہوں، یہ تاثر ضرور پیدا کرتی ہیں کہ دفاعی قوت کی وہ ہیبت، جو کبھی ناقابلِ تردید سمجھی جاتی تھی، اب بتدریج کمزور پڑ رہی ہے۔ اسی طرح اسرائیل کے مضبوط دفاعی نظام کے بارے میں یہ تاثر کہ وہ مسلسل دباؤ کے سامنے متزلزل ہو رہا ہے، اس کے مخالفین کو حوصلہ اور اتحادیوں کو تشویش میں مبتلا کر رہا ہے۔
سب سے اہم پیش رفت ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرناہے—ایک تنگ گزرگاہ جس سے دنیا کے تقریباً بیس فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس امکان نے ہی عالمی منڈیوں میں ہلچل مچا دی ہے اور جدید معیشتوں کے باہمی انحصار کی نازک حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اگرچہ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ اب امریکہ توانائی کے میدان میں خودکفیل ہے اور ماضی کی نسبت کم متاثر ہوگا، مگر عالمی سطح پر اس کے اثرات نہایت گہرے ہوں گے۔
اس جنگ کے مالی اخراجات بھی کم نہیں۔ وائٹ ہاؤس کی نیشنل اکنامک کونسل کے ڈائریکٹر کیون ہیسٹ کے مطابق، امریکہ اب تک تقریباً بارہ ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے، جبکہ ابتدائی ہفتے میں ہی پانچ ارب ڈالر سے زائد صرف ہتھیاروں پر خرچ ہوئے۔
اس تمام ہنگامہ آرائی کے درمیان جنگ کے مقاصد بھی غیر واضح اور بدلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ جو مہم ابتدا میں ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے شروع ہوئی تھی، وہ بتدریج اس کے میزائل پروگرام اور اب تیل کے ڈھانچے تک پھیل چکی ہے۔ ایسے تغیر پذیر اہداف اس تنازع کو ایک لامتناہی دلدل میں دھکیل سکتے ہیں، جہاں کسی واضح اور قابلِ حصول انجام کا تصور معدوم ہو جاتا ہے۔
اس بحران کی بازگشت جنوبی ایشیا تک بھی سنائی دے رہی ہے۔ بھارت اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت، اور افغانستان میں ان کی مبینہ معاونت، پاکستان کے لیے ایک پیچیدہ چیلنج کی صورت اختیار کر رہی ہے۔ طالبان حکومت کے تحت افغانستان اب استحکام کے بجائے غیرمتوازن خطرات کا منبع محسوس ہوتا ہے۔ یہ تاثر کہ وہاں سے پاکستان کو ملنے والی سب سے نمایاں‘‘برآمدات’’خودکش حملہ آور اور مسلح ڈرون ہیں، علاقائی سلامتی پر ایک گہرا سایہ ڈال رہا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ صورتحال غیرمعمولی چوکسی کی متقاضی ہے۔ سرحد پار دہشت گردی کا تسلسل، اور وسیع تر جغرافیائی کشیدگی کے تناظر میں بھارت کی ممکنہ مہم جوئی، ایک نازک منظرنامہ پیش کرتی ہے۔ اگرچہ پاکستان نے اب تک متوازن حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا ہے، مگر حالات کی تیزی سے بدلتی نوعیت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ دوراندیشی اور قومی یکجہتی کو مزید مضبوط بنایا جائے۔
بالآخر یہ بحران ایک ایسے عالمی نظام کی تصویر پیش کرتا ہے جو تغیر کے مرحلے سے گزر رہا ہے، جہاں پرانے اصول اور روایتی اتحاد اپنی افادیت کھو رہے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کی یہ خواہش کہ وہ اس تنازع سے نکل جائیں، جبکہ وہ خود اس میں مزید الجھتے جا رہے ہیں، جدید جنگ کی اس ستم ظریفی کو آشکار کرتی ہے کہ اسے چھیڑنا آسان، مگر سمیٹنا دشوار ہوتا ہے۔ خلیجی ریاستوں کے لیے یہ لمحہ خطرے کے ساتھ ساتھ ایک موقع بھی ہے—اپنی حکمتِ عملی کو نئے سرے سے ترتیب دینے کا موقع۔
تاریخ ان ہنگامہ خیز لمحات میں کیے گئے فیصلوں کا ضرور محاسبہ کرے گی۔ مگر ایک حقیقت ابھی سے واضح ہے کہ باہم جڑی ہوئی اس دنیا میں جنگ کے اثرات کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہتے۔ وہ لہروں کی طرح پھیلتے ہیں، معیشتوں، اتحادوں اور عالمی نظام کی بنیادوں کو ازسرِ نو تشکیل دیتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا دانش، جذبات پر غالب آ سکے گی—کیونکہ اسی کے جواب میں دنیا کے مستقبل کی سمت پوشیدہ ہے۔
