Tuesday, March 17, 2026
ہومتازہ ترینیوکرین جنگ دراصل "مجموعی مغرب" سے بالواسطہ تصادم ہے،روسی سفیر

یوکرین جنگ دراصل “مجموعی مغرب” سے بالواسطہ تصادم ہے،روسی سفیر

اسلام آباد: (سب نیوز) پاکستان میں روس کے سفیر البرٹ پی خوریف نے بین الاقوامی امور پر ایک باضابطہ بریفنگ کے دوران یوکرین تنازع، عالمی طاقتوں کے توازن اور جاری سفارتی کوششوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
اپنے خطاب میں انہوں نے شرکاء کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ روس یوکرین میں جاری تنازع کو صرف دو ممالک کے درمیان جنگ نہیں سمجھتا، بلکہ اسے نام نہاد “مجموعی مغرب” کے ساتھ ایک بالواسطہ تصادم تصور کرتا ہے۔ ان کے مطابق یہ تنازع ایک نئے کثیر القطبی عالمی نظام کے قیام میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، جس کے اثرات آئندہ کئی برسوں تک عالمی سیاست پر مرتب ہوں گے۔

سفیر نے کہا کہ بحران کی بنیادی وجہ کیف حکومت کی جانب سے ڈونباس کو زبردستی اپنے ساتھ شامل کرنے کی کوشش تھی، جو وہاں کے عوام کی خواہشات کے برخلاف تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2014 سے 2022 کے دوران روس نے امن کے قیام کے لیے متعدد اقدامات کیے۔میدانِ جنگ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت حالات روسی افواج کے حق میں جا رہے ہیں، جبکہ یوکرینی افواج شہری علاقوں اور تنصیبات کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

انہوں نے 10 مارچ کو بریانسک پر حملے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس واقعے میں 8 افراد ہلاک اور 47 زخمی ہوئے۔انہوں نے مزید کہا کہ 2025 کے دوران روسی علاقوں پر یوکرینی حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں ہزاروں شہری متاثر ہوئے، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔تاہم، روسی سفیر نے واضح کیا کہ ان کا ملک تنازع کے حل کے لیے مذاکراتی راستہ ترک نہیں کر رہا۔ انہوں نے بتایا کہ 2026 میں اب تک ابوظہبی اور جنیوا میں سہ فریقی مذاکرات کے تین دور ہو چکے ہیں، جبکہ حالیہ دنوں میں قیدیوں کا تبادلہ بھی عمل میں آیا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ دیرپا امن کے لیے ضروری ہے کہ کیف حکومت ڈونباس کے عوام کے فیصلے کو تسلیم کرے اور اپنی افواج کو وہاں سے واپس بلائے۔ ان کے مطابق جنگ بندی صرف اسی صورت میں مؤثر ہو سکتی ہے جب تنازع کی بنیادی وجوہات کا حل نکالا جائے، جن میں نیٹو کی توسیع اور روسی زبان بولنے والوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک شامل ہیں۔زاپوروجیا جوہری بجلی گھر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سفیر نے کہا کہ اس تنصیب کی حفاظت روس کی ترجیحات میں شامل ہے، اور یوکرینی حملوں سے جوہری خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔اختتام پر سفیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ روس خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا، تاہم اس کے لیے تمام فریقین کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔