بیجنگ(سب نیوز)چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے واضح کیا ہے کہ تائیوان کو چین نے 80 سال سے زیادہ پہلے دوبارہ حاصل کر لیا تھا اور ہم کبھی کسی فرد یا طاقت کو اسے چین سے الگ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ “ون چائنا اصول” کو عالمی برادری کی زبردست حمایت حاصل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ زیادہ سے زیادہ ممالک چین کے ساتھ کھڑے ہو رہے ہیں۔ وہ نہ صرف ون چائنا اصول سے اپنی وابستگی کی دوبارہ تصدیق کر رہے ہیں اور تائیوان کو چین کا حصہ تسلیم کر رہے ہیں بلکہ “تائیوان کی آزادی” کی تمام سرگرمیوں کی واضح مخالفت بھی کر رہے ہیں اور چین کے اتحاد کے مقصد کی حمایت کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ تائیوان کی آزادی کی مخالفت اور چین کے اتحاد کو فروغ دینا وقت کا تقاضا ہے اور یہ عالمی برادری کی توقعات کے مطابق ہے۔
چینی وزیر نے کہا کہ تائیوان کے مسئلے کو حل کرنا اور مادرِ وطن کے مکمل اتحاد کو حقیقت بنانا ایک تاریخی عمل ہے جسے روکا نہیں جا سکتا۔
یہ ریمارکس چینی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے پولیٹ بیورو کے رکن اور وزیر خارجہ وانگ یی نے 14ویں نیشنل پیپلز کانگریس کے چوتھے اجلاس کے موقع پر ایک پریس کانفرنس میں دیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹوکیو ٹرائلز انسانیت کے ضمیر کا امتحان تھے جنہوں نے تاریخی انصاف فراہم کیا۔
اسی سال قبل 11 ممالک کے ججوں نے ان مقدمات کی کارروائی شروع کی جو ڈھائی سال تک جاری رہی۔ ان میں بے شمار ناقابلِ تردید شواہد کا جائزہ لیا گیا اور جاپانی عسکریت پسندوں کے بے شمار جرائم کو بے نقاب کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اسی سال بعد آج جاپان کو ایک بار پھر سنجیدہ خود احتسابی کا موقع دیا جا رہا ہے۔
ہم امید کرتے ہیں کہ جاپانی عوام آنکھیں کھلی رکھیں گے اور کسی کو بھی اتنی حماقت نہیں کرنے دیں گے کہ وہ دوبارہ اسی تباہ کن راستے پر چلے۔
انہوں نے کہا کہ چین پہلے ہی ایک مضبوط ملک ہے۔ چین کے 1.4 ارب عوام کبھی کسی کو نوآبادیاتی نظام کو جائز قرار دینے یا جارحیت کے بارے میں تاریخ کے فیصلے کو پلٹنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
