Tuesday, February 24, 2026
ہومتازہ ترینیوکرین پر روسی حملے کے چار سال مکمل، رومانیہ کی جارحیت کی بھرپور مذمت

یوکرین پر روسی حملے کے چار سال مکمل، رومانیہ کی جارحیت کی بھرپور مذمت

آج ہم یوکرین پر روس کے حالیہ حملے کے آغاز کو چار سال مکمل ہونے پر یاد کر رہے ہیں۔ ہمیں واضح طور پر کہنا چاہیے کہ یہ کوئی نام نہاد “یوکرینی بحران” نہیں بلکہ روسی فیڈریشن کی جانب سے شروع کیا گیا ایک کھلا جارحانہ اقدام اور بین الاقوامی مسلح تنازع ہے۔ 2014 میں کریمیا کے غیر قانونی الحاق اور 24 فروری 2022 کو شروع کی گئی مکمل پیمانے کی یلغار کے بعد سے، روس نے اقوامِ متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 2(4) اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی کی ہے۔


بین الاقوامی برادری نے روس کو بلا تردد جارح قرار دیا ہے، جس کی عکاسی اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قراردادوں میں بھی ہوتی ہے، مثلاً یوکرین کی علاقائی سالمیت سے متعلق قرارداد 68/262 اور یوکرین کے خلاف جارحیت کی مذمت کرنے والی قرارداد ES-11/1۔ یوکرین، روس کے مسلح حملے کے جواب میں، اقوامِ متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے فطری حقِ دفاع کا استعمال کر رہا ہے۔ روس کی اس جنگ کے نتیجے میں بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزیاں ہوئی ہیں، جن میں ہزاروں یوکرینی بچوں کی غیر قانونی ملک بدری اور جبری منتقلی شامل ہے۔


رومانیہ نے مسلسل اور غیر مبہم انداز میں یوکرین کے خلاف روسی جارحیت کی مذمت کی ہے۔ ایک ہمسایہ ملک اور یورپی یونین اور نیٹو کے رکن کی حیثیت سے، رومانیہ یوکرین کی خودمختاری، آزادی اور اس کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں کے اندر علاقائی سالمیت کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ رومانیہ نے یوکرین کو نمایاں انسانی، سیاسی اور لاجسٹک معاونت فراہم کی ہے، یوکرینی اناج کی لاکھوں ٹن مقدار کی ترسیل میں سہولت دی ہے، روس کے خلاف یورپی یونین کی پابندیوں کی حمایت کی ہے، اور جنگی جرائم کے احتساب اور جارحیت سے ہونے والے نقصان کے مکمل ازالے کی وکالت کی ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔