تحریر: سدرہ انیس
پاکستان کی آزادی کا مقصد صرف ایک خطۂ زمین حاصل کرنا نہیں تھا بلکہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا بھی تھا جہاں مرد و خواتین دونوں برابر کے شہری ہوں، اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ملک کی ترقی میں حصہ ڈال سکیں۔ 14 اگست 1947 کو جب پاکستان معرضِ وجود میں آیا، اُس وقت خواتین کی تعلیم، معاشی شمولیت اور سماجی حیثیت محدود تھی، مگر جذبۂ حب الوطنی اور قربانی میں وہ کسی سے پیچھے نہیں تھیں۔ تحریکِ پاکستان میں مادرِ ملت فاطمہ جناح، بیگم رعنا لیاقت علی خان اور بے شمار گمنام خواتین نے ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا۔
قیامِ پاکستان کے بعد خواتین نے تعلیم اور صحت کے شعبے میں قدم جمانا شروع کیا۔ بیگم رعنا لیاقت علی خان نے خواتین کی سماجی فلاح کے لیے ادارے قائم کیے۔ 1960 کی دہائی میں خواتین سول سروس، تدریس اور نرسنگ میں اپنی جگہ بنانے لگیں، لیکن دیہی علاقوں میں پدرشاہی نظام، کم تعلیمی مواقع اور روایتی پابندیاں اُن کی راہ میں بڑی رکاوٹ رہیں۔
1970 اور 1980 کی دہائیاں خواتین کے لیے تضادات کا دور تھیں۔ ایک طرف بینظیر بھٹو جیسی قیادت نے عالمی سطح پر پاکستانی خواتین کا مثبت تاثر پیش کیا، تو دوسری طرف ایسے قوانین نافذ ہوئے جنہیں خواتین مخالف سمجھا گیا۔ اس کے باوجود خواتین نے اپنی محنت اور ہمت سے تعلیم، میڈیا، کھیل اور دیگر شعبوں میں جگہ بنائی۔
2000 کے بعد خواتین کے لیے نئے مواقع پیدا ہوئے۔ ہائر ایجوکیشن میں خواتین کی تعداد مردوں سے بڑھ گئی، میڈیا اور کارپوریٹ سیکٹر میں اُن کی شمولیت نمایاں ہوئی، اور قانونی تحفظ کے لیے ہراسمنٹ سے متعلق قوانین پاس ہوئے۔ 2010 کی دہائی میں عورت مارچ اور ویمن رائٹس موومنٹس نے خواتین کی آواز کو عالمی سطح پر پہنچایا، مگر آن لائن ہراسمنٹ، شہری و دیہی فرق، اور محفوظ عوامی مقامات کی کمی جیسے مسائل آج بھی موجود ہیں۔
78 سال کے اس سفر میں پاکستانی خواتین نے قربانی، جدوجہد اور محنت سے اپنی شناخت بنائی ہے۔ اگرچہ آئینی اور قانونی طور پر انہیں کئی حقوق حاصل ہیں، مگر اصل چیلنج ان حقوق کا عملی نفاذ ہے۔ پاکستان کی ترقی اسی وقت مکمل ہوگی جب خواتین کو تعلیم، روزگار، اور اظہارِ رائے میں مساوی مواقع میسر آئیں، اور انہیں ہر میدان میں محفوظ اور بااختیار ماحول فراہم کیا جائے۔
یہ سفر جاری ہے اور ہر آنے والا سال خواتین کے لیے نئے سنگِ میل عبور کرنے کا موقع فراہم کر سکتا ہے

