اسلام آباد ،پشاور سے تعلق رکھنے والے اوورسیز پاکستانی جلال خان آفریدی نے کہا ہے کہ بغیر کسی وارنٹ کے مجھے اور میرے بھائی کو خیبرپختونخواہ پولیس اغوا کرکے لے گئی،ہمیں پشاور میں خفیہ مقام پر رکھا گیا، مجھے اور میرے خاندان کو کچھ ہوا تو زمہ دار ایس ایس پی یاسر آفریدی ہونگے ۔
بدھ کو پشاور سے تعلق رکھنے والے اوورسیز پاکستانی جلال خان نے اسلام آباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ11 اگست کو خیبر پختونخواہ پولیس نے اسلام آباد میں واقع میرے گھر پر دھاوا بول دیا،بغیر کسی وارنٹ کے مجھے اور میرے بھائی کو پشاور لے جا کر خفیہ مقام پر رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پشاور پولیس کے متھرا پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او سے خفیہ مقام پر ملاقات کرائی گئی ،پشاور کے ایس ایس پی یاسر آفریدی نے پولیس کو ہماری تزلیل کرنے کی ہدایت دیں ۔جلال خان نے کہا کہ ہمیں اب یہ بھی اطلاع ملی ہے کہ اسلام آباد میں بھی میرے خلاف ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے ،میرے گھر کے ملازمین کو بغیر کسی وجہ سے تھانے میں بند کیا ہوا ہے، ہمارے خلاف 2013 سے جعلی ایف آئی آردرج کرائی جا رہی ہیں ۔وزیر اعظم عمران خان اور اعلی حکام سے میرے اور میرے خاندان کے ساتھ رونما ہونے والے واقعات کی تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پشاور میں ایک سیل میں میری تصاویر بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کرائی گئیں ، وزیر داخلہ شیخ رشید احمد معاملے کا نوٹس لیں اور میرے گرفتار ملازمین کی رہائی کروائیں ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے اوورسیز پاکستانیوں کو سپورٹ کرنے کے بڑے بڑے دعوے کئے تھے، تاہم اس کے برعکس صورتحال سامنے آ رہی ہے ،میرے خلاف تمام کارروئیاں مخالف الکوزے گروپ آف کمپنی کی جانب سے کرائی جا رہی ہیں، الکوزے گروپ کا مالک افغان نیشنل ہے اور منی لانڈرنگ میں بھی ملوث ہے ، الکوزے گروپ نے ہمیں دبئی میں کاروبار بند کرنے کا بار بار کہا ، مجھے یا میرے خاندان کو کچھ بھی ہوا تو اس کے زمہ دار ایس ایس پی یاسر آفریدی ہوں گے۔
پشاور سے تعلق رکھنے والے اوور سیز پاکستانی کا وزیراعظم سے پولیس گردی کو نوٹس لینے کا مطالبہ
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

