Monday, April 27, 2026
ہومبریکنگ نیوزسی ڈی اے کی تاریخ کا انوکھا آفیسر،مارگلہ ہائی وے ، بہارہ کہو فلائی اوور،ایف ایٹ انٹر چینج ، ایران ایونیو کی ناقص تعمیرات کی شکایات کے باوجود نوازشات کا حق دار ،ڈائریکٹر روڈ بھی اور ڈپٹی ڈی جی میٹرو بھی ! رانا طارق محمود کے پراجیکٹس بارے چشم کشا انکشافات سب نیوز پر

سی ڈی اے کی تاریخ کا انوکھا آفیسر،مارگلہ ہائی وے ، بہارہ کہو فلائی اوور،ایف ایٹ انٹر چینج ، ایران ایونیو کی ناقص تعمیرات کی شکایات کے باوجود نوازشات کا حق دار ،ڈائریکٹر روڈ بھی اور ڈپٹی ڈی جی میٹرو بھی ! رانا طارق محمود کے پراجیکٹس بارے چشم کشا انکشافات سب نیوز پر

اسلام آباد(ایڈیٹر انوسٹی گیشن ) حالیہ بارشوں کے بعد سی ڈی اے کی جانب سے تعمیر کیے گئے ڈویلپمنٹ پراجیکٹس کی قلعی کھل کر سامنے آئی ،، انجئیرنگ ونگ کے ڈائریکٹوریٹ نارتھ کی جانب سے ایف ایٹ انٹر چینج کی تعمیرات کو ابتداء سے تکمیل تک سپروائز کیا گیا ،،

یاد رہے ڈائریکٹر روڈ نارتھ رانا طارق محمود نے بطور پراجیکٹ ڈائریکٹر خود تمام پراجیکٹ کو مکمل کروایا ،، اور ایف ایٹ پراجیکٹ کی فائل پر ڈی جی انجئیرنگ ونگ کے دستخط بھی نہیں کروائے اور فائل براہ راست ممبر انجئیرنگ کو بھیجی ،، چیئرمین کو انٹر چینج کے ڈیزائن سے لیکر ناقص تعمیرات پر شدید تنقید کا سامنا ہے یاد رہے موصوف مارگلہ ہائی وے کے بھی ڈائریکٹر تھے جہاں ایک سال قبل بارشوں سے انڈر پاس میں پانی ٹھہر گیا تھا اور سڑکوں کوبھی نقصان پہنچا تھا ،، بہارہ کہو فلائی اوور کے پراجیکٹ ڈائریکٹر بھی موصوف رانا طارق محمود ہی تھے

جہاں شٹرنگ کے گرنے سے مزدور زخمی ہوئے تھے لیکن رپورٹ باہر آئی نا ہی کوئی ایکشن سامنے آیا ،،ای الیون (ایران ایونیو) پر بھی دراڑ پڑنے کی شنید ہے،، ان تمام پراجیکٹس کے ناقص کارکردگی اور شدید تنقید کے باوجود رانا طارق محمود کو نا صرف ڈائریکٹر روڈز نارتھ کا چارج دے رکھا ہے بلکہ میٹرو کے ڈپٹی ڈی جی کا عہدہ بھی حاصل ہے،، وزیر داخلہ محسن نقوی ، چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا ، ممبر انجئیرنگ سمیت کسی نے ابھی تک اس حوالے سے کوئی نوٹس لیا اور نا ہی انکوائری کروائی ،،

جبکہ سب نیوز کی جانب سے ترجمان سی ڈی اے ، رانا طارق محمود اور ممبر انجئیرنگ کو متعدد بار سوالات بھیجے گئے رانا طارق محمود کو متعدد کالز کی گئیں تاہم کوئی جواب موصول نہیں ہوا اس ضمن میں سی ڈی اے ، ممبر انجئیرنگ یا رانا طارق محمود اپنا موقف دینا چاہے تو ادارہ موقف سامنے لانے کے لیے تیار ہے

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔