تحریر۔۔ فیض اللہ فراق
واقعہ کربلا کا ذکر آتے ہی تخیل کی پرواز میں ایک انسیت کا احساس جاگ جاتا ہے، سچ اور حق کی خوشبو آتی ہے، جرات انکار کی ایک نئے انداز کی روایت کا آغاز ملتا ہے، کائنات کے سینے پر انوکھی تاریخ رقم ہوتے ہوئے محسوس ہوتی ہے، چار سو پھیلی بہاروں میں سرمستی کا جنون سوار رہتا ہے، فکر کی گل کاریاں، پرندوں کی ساز، ہواوں کی سرسراہٹ، زمین و آسمان کی وسعتوں میں امام حسین کے خون سے تحریر صدائیں قافلہ حق کیلئے ایک حوصلے کا حوالہ بن جاتیں ہیں۔۔۔ نظریے کی جنگ کا نکتہ آغاز سمجھیں یا نکتہ عروج مگر کوفہ کی گھاٹیاں آج بھی اس بات کی شاید ہیں کہ کرہ ارض پر دو نظریات کی باقاعدہ تفریق میدان کربلا کے تپتے صحراں سے ہوا۔۔۔ حق و جھوٹ اور ظلم و انصاف کی باقاعدہ خونی لکیر میدان کربلا کی مٹی پر کھینچی گئی۔۔۔ایک طرف امام عالی مقام کے قافلے میں شامل خاندان نبوت کے چند افراد اور دوسری جانب یزید کا ہزاروں پر مشتمل لاو لشکر۔۔۔۔ ایک جانب نہتے مگر مخالف سمت سازو سامان سے لیس۔۔۔ تاریخ کے حوالے اپنی جگہ مگر میں مختصر اس نتیجے ہر پہنچا ہوں کہ حسین و یزید صرف 2 نام نہیں بلکہ 2 نظریات ہیں جن پر قائم رہنا نہ صرف ہر شعیہ کی بس کی بات ہے اور نہ ہی ہر سنی کی مجال ہے۔ ظالموں اور جابروں کے سامنے کلمہ حق کہتے ہوئے اپنی جان لٹانا کس قدر مشکل کام ہے یہ وقت کے حسین جانتے ہیں ہم اس فلسفے سے آج بھی بے بہرہ ہیں۔۔۔ جس امام عالی مقام کو دنیا میں جنت کی بشارت مل چکی ہو پھر اسے کربل کے تپتے صحراں میں خاندان سمیت ذبح ہونا کیوں ضروری تھا؟ مکتب عشق کا دستور نرالا دیکھا اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا۔یہ مکتب عشق کا وہ لاڈلا تھا جس کو فرشتوں نے غسل دیا، جس کی نماز جنازہ کے مناظر رب کائنات نے دیکھا، مگر دوسری جانب ہماری باطل آنکھوں کے سامنے کرہ ارض پر ظلم کی بدترین تاریخ لکھی جا رہی تھی، قدرت نے یہ منظر بھی دیکھا کہ جب قلوب میں عشق مصطفی جاگ جائے اور سچ کی روشنی نمودار ہو تو فرعون کے گھر میں موسی اور یزید کے گھر میں ” حر” بھی پرورش پاتے ہیں۔۔ امام عالی مقام کی شہادت کے بعد کتنا عرصہ بیت گیا مگر ہم فلسفہ حسینی سے کوسوں دور اپنی روایات پر پختہ ہیں۔۔۔ کیا امام عالی مقام کی قربانی کا مقصد یہی تھا کہ ہم انکے نام پر انسانیت کو اذیتیں پہنچائیں؟ کیا واقعہ کربلا اتنا معمولی ہے کہ ہم امام عالی مقام پر ہونے والے مظالم کی یاد میں غم بھی نہ منائیں؟ اپنی اولاد اور ماں باپ کی جدائی پر داڑیں مار مار کر رونے والے امام عالی مقام کی یاد میں اشکوں کی شمعیں جلانے والوں سے کیوں خائف ہیں؟ یہ کون لوگ ہیں جو امام عالی مقام کے غم میں رونے پر سیخ پا ہیں اور یہ کون لوگ ہیں جو امام عالی مقام کے نام پر انسانیت کو تکلیف میں ڈالتے ہیں؟ خدا را! طرفین میں سے ایسے افراد کے گروہ امام عالی مقام کی عظیم قربانی کے بنیادی فلسفے سے نابلد ہیں۔۔۔ یقین کیجئے واقعہ کربلا کا سبق سے بڑا سبق صبر و شکر ہے، غواڑی کے مقام پر پیش آنے والے واقعہ کے محرکات کیا ہیں باقاعدہ تحقیقات ہونی چاہیں مگر عاشورہ کا اعلی ترین پیغام یہ ہے کہ اگر امام علی مقام کی روح کو خوشی دینی ہے تو صبر کا دامن ہاتھ سے جانے نہ دیں، بلتستان کی زمین پر امن کے داعی علامہ شیخ جعفری، بلال زبیری، مولانا خلیل ، بوا جوہر اور مولانا رستم جیسی مدبر شخصیات کی موجودگی ہمیں ہر وقت امید کا پیغام دیتی ہے۔۔۔۔ اور اس بار بھی یہی امید ہے کہ مندرجہ بالا شخصیات امام عالی مقام کی لازوال قربانی کی بنیادی روح کو اجاگر کرتے ہوئے اپنے صفوں سے امن دشمن عناصر کو بلاتفریق بے نقاب کر کے خود سزائیں بھی تجویز کریں گے۔۔۔۔ امت میں تفریق، بدامنی، نفرتیں، خود غرضیاں، حسد، کھوکھلی روایات، اذیتیں ، انسانیت سوزی، عدم برداشت،ظلم، جھوٹ، فریب ، ناشکری اور بے صبری کسی طور فلسفہ حسینی میں شامل نہیں ہیں، یہ یزیدی افکار کی پرچار ہے۔۔۔۔۔ اگر حسینی بننا ہے تو عمل و کردار سے بننا ہوگا، نیکی سے، انسانیت سے پیار کر کے، دوسروں میں آسانیاں بانٹ کر، اپنی جھوٹی اناوں کو ذبح کر کے، ظالموں کیخلاف مزاحمت سے، اگر یہ سب ممکن نہیں تو پھر یقین کیجئے ہم تو یزید کے فرزند
