ہومبریکنگ نیوزطالبان قیادت کے بیانات پر پاکستان کا مقف، افغانستان میں دہشتگردی اور حکومتی طرزِ عمل پر سوالات

طالبان قیادت کے بیانات پر پاکستان کا مقف، افغانستان میں دہشتگردی اور حکومتی طرزِ عمل پر سوالات

کابل (آئی پی ایس )پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کے پس منظر میں طالبان حکومت کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی اور ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویوز کے بعد دونوں ممالک کے مقف ایک بار پھر نمایاں ہوگئے ہیں۔ پاکستان کا مقف ہے کہ کابل کی جانب سے تعلقات میں خرابی کی ذمہ داری اسلام آباد پر ڈالنے کی کوشش اصل مسئلے، یعنی افغان سرزمین سے پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی، سے توجہ ہٹانے کے مترادف ہے۔

امیر خان متقی نے اپنے انٹرویو میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی بندش اور تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹوں کو پاکستان کے یک طرفہ اقدامات کے طور پر پیش کیا۔ تاہم پاکستانی مقف کے مطابق سرحدی اور تجارتی اقدامات کسی سیاسی مقصد کے تحت نہیں بلکہ افغان سرزمین سے سرگرم دہشتگرد گروہوں، بالخصوص تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، کے خلاف سلامتی کے تقاضوں کے تحت کیے گئے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔