اسلام آباد /نیویارک،پاکستان نے افغانستان کی صورت حال پر سلامتی کونسل میں ہونے والے اجلاس میں خطاب کی اجازت نہ ملنے کو افسوس ناک قرار دیا ہے، دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیط چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کو سلامتی کونسل کے اجلاس میں گفتگو کی اجازت نہ دینا اور پلیٹ فارم کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔
ہفتہ کو دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کی صورت حال پرسلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی بریفنگ پر نظر ہے، پاکستان کوسلامتی کونسل میں بات کی اجازت نہ دینا افسوسناک ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ سلامتی کونسل کے پلیٹ فارم کو پاکستان کے خلاف پروپیگنڈیکیلئے استعمال کیاگیا، افغان نمائندے نے پاکستان پر من گھڑت الزامات عائد کیے، جن کو پاکستان یکسر مسترد کرتا ہے۔دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان افغانستان کا قریبی ہمسایہ ملک ہے جس نے افغان امن عمل میں اہم کردار ادا کیا، پاکستان کی شراکت کو عالمی برداری نے بھی تسلیم کیا، پاکستان نے افغانستان کے حوالے سے سلامتی کونسل کے صدر کو اپنا نقطہ نظر اور تجاویز پیش کرنے کی درخواست کی مگر اسے مسترد کردیا گیا۔ زاہد حفیظ چوہدری کے مطابق پاکستان نے اپنا مقف سلامتی کونسل کے ارکان سے شیئربھی کیا اور ہر بار عالمی برادری کو اپنے نقطہ نظر سے آگاہ کیا، جھوٹے بیانیے کو چلانے کیلئے پاکستان کے خلاف پلیٹ فارم استعمال کیا گیا۔دفتر خارجہ کے ترجمان نے ایک بار پھر وضاحت کی کہ افغان تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں، مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل ہی امن اور سلامتی کا واحد راستہ ہے، پاکستان کی کوششوں سے دنیا نے دوحہ امن عمل میں کامیابی حاصل کی، کامیابیوں میں امریکا، طالبان امن معاہدہ اور انٹراافغان مذاکرات کا آغازشامل ہے، جس کی بدولت آج امریکا اور نیٹو افواج کا افغانستان سے انخلا مکمل ہونے کے قریب ہے۔پاکستان فریقوں پر زور دیتا ہے کہ وہ فوجی یا مسلح نقطہ نظر ترک کر کے مذاکرات کی طرف آئیں، مذاکرات سے سیاسی تصفیہ ہی امن وسلامتی کا واحد راستہ ہے، پاکستان کو مذاکرات ٹھوس نتیجے پر پہنچنے سے قبل افغانستان کی بگڑتی صورتحال پر تشویش ہے، وہاں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھی تشویش ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے فریقین پر ہمیشہ زور دیا کہ وہ انسانی وعالمی قوانین کے احترام کو یقینی بنائیں جبکہ افغان فریقین پر زور دیا کہ وہ فوجی استعمال سے گریز کریں اور خرابی پیدا کرنے والوں سے ہوشیار رہیں کیونکہ وہ افغانستان اور خطے میں امن و استحکام کے خلاف ہیں۔دفتر خارجہ کے ترجمان نے پیش کش کی کہ افغان حکومت الزام تراشی چھوڑ کرپاکستان کے ساتھ بامعنی بات چیت کرے تاکہ باہمی رابطوں اور امن و اخوت کو بروئے کار لایا جاسکے۔علاوہ ازیں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے کہا کہ افغانستان سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان کو مدعو نہ کرنا سلامتی کونسل کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ پاکستان نے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اہم کردار ادا کیا، اسی وجہ سے پاکستان نے افغانستان سے متعلق سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کی درخواست کی تھی لیکن اس کے باوجود پاکستان کو مدعو نہیں کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے نمائندے کو تقریر کی اجازت دی گئی، افغانستان میں امن مخالف عناصر کے پاکستان پر الزامات کی مذمت کرتے ہیں، مسلح گروہ افغانستان میں امن نہیں دیکھنا چاہتے، 11اگست کو دوحا قطر میں ہونے والے سہ فریقی اجلاس کے منتظر ہیں۔سلامتی کونسل کے اجلاس میں نہ بلانے پر پاکستانی مندوب نے سلامتی کونسل کے صدر کو خط بھی بھیج دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ این جی او کو سلامتی کونسل اجلاس میں بلایا جا سکتا ہے، پاکستان کو کیوں نہیں؟ منیر اکرم نے اپنے خط میں لکھا کہ دو عشروں سے افغانستان کی صورتحال سے متاثر پاکستان کو اجلاس میں بلانا چاہیے تھا، سلامتی کونسل میں بھارتی سربراہی کی وجہ سے شفافیت کی امید نہیں تھی۔
سلامتی کونسل اجلاس میں مدعو نہ کرنے پر پاکستان کاشدید ردعمل،افغان الزمات مسترد
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
