ہومکالم وبلاگزبلاگزکول ۔۔۔ تحصیل کندیا ضلع کوہستان

کول ۔۔۔ تحصیل کندیا ضلع کوہستان

‏تحریر: عبدالمتین
‎@PrinceMateenk
واقعی زندگی ایک گورکھ دھندا ہے۔ اس کی پُراسراریت سمجھنے کے لیے میں جہاں بھی گیا مجھے مایوسی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا۔ مجھے اُمید اورانتظار کی کیفیت میں اتنا یقین دیکھ کرخود پریقین نہیں آیا کہ انتظار اس قدر طویل بھی ہوسکتا ہے۔ بات گھنٹوں کی، صبح و شام کی، ہفتوں کی، مہینوں کی ہوتی تو بات قابل فہم بھی ہوتی مگر اس اذیت ناک انتظارمیں صدیاں بیت گئیں کہ ہمارے بچے بھی اچھے تعلیم حاصل کرسکیں گے ہم بھی دوسرے محب وطن پاکستانیوں کی طرح پاکستان کے ہرادارے میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے
چلیں مان لیتے ہیں کہ برسوں کی طویل مدت بھی کبھی کبھارسمجھ میں آسکتی ہے۔ مگرجس انتظار کا کوئی کنارہ نہ ہو، کوئی سرحد یا کوئی موسم نہ ہو وہاں زندگی کس طرح اپنا وجود برقرار رکھتی ہے؟
مگر ہم جانتے ہیں کہ تپتی دوپہروں، طوفانوں، خشک سالی اور جاڑوں کی یخ بستہ راتوں میں زندگی اس بغیر کسی سرحد والے انتظارمیں اپنی بقا کی جنگ لڑتی ہے۔ پہاڑوں اور قدیم ندیوں کے کناروں پر کہیں بھی چلے جائیں تو ہزاروں راز مل جائیں گے جنہیں سمجھنے کے لیے شاید ایک پورا زمانہ درکار ہو۔ مگر کوہستان کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو سمجھنا مشکل ہی نہیں ناممکن 1938 سے 1969 تک اس خطہ میں یوسفزئی قبلہ (والی سوات) کے ریاست تھی جو بہترین امن و امان برقرار تھا1969 میں اس وقت کی حکمران جنرل ایوب خان کی دور اقتدار میں والی سوات کی حکمران میاں گل عبدالودود نے باقعدہ حکومت پاکستان میں شمولیت کا اعلان کیا اور یوں کوہستان بھی پاکستان میں شامل ہو گیا مگر بدقمستی سے حکومتی عدم توجہ کی وجہ سے آج بھی پاکستان کی پسمندہ ترین ضلع کا ریکارڈ قائم رہا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔