عرفان اللہ
ٹویٹر: @Muna_Pti
انسٹاگرام: faisal_khan.pti
اس دنیا میں قابل سوچ اور سلامت ذہن والے لوگوں کے دو اقسام ہوتے ہیں جس میں منفی سوچ اور مثبت سوچ والے ہوتے ہیں۔ منفی سوچ والے لوگ ایک اچھے کام، بات، سوچ یا نظریے میں بھی صرف ان چیزوں کا نشاندہی کرتا ہے جس کا رجحان نفی کی طرف ہو اور مثبت سوچ والے لوگ کسی نفی بات یا کام میں بھی مثبت چیزوں کو ایسے سامنے لاتا ہے کہ انسان کی ذہن اس کام کیلئے مکمل تیار ہوتا ہے۔ دنیا میں پائی جانے والی تمام اشیاء کے دو پہلو ہوتے ہیں ایک اچھا اور ایک برا اب یہ انسان کی ذہنیت پرہے کہ وہ اس چیز کا استعمال اچھائی کے ساتھ کریں یا برائی کے ساتھ۔
مثال کہ طور پر آج کل استعمال ہونے والی ایک انٹرٹینمنٹ ایپ ٹک ٹاک دیکھے۔ ٹک ٹاک پر اپکو بہت سے کیٹگری انٹرٹینمنٹ، شوبز، سپورٹس، شاعری، مزاحیہ، ٹیلنٹ اور انفارمیٹیو سے وابستہ لوگ ملے گی۔ اب اگر ایک انسان اچھا سوچتا ہے اس کی سوچ مثبت ہے تو اس ایپ کو اچھے طریقے سے استعمال کرکے لوگوں کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ اس پر لوگوں کو تعلیم دے سکتا ہے اس کے ذریعے بہت سے لوگوں کو روزگار سکھایا جا سکتا ہے، اس ایپ کے ذریعے اپنا چھوٹا کاروبار کرسکتا ہے، اس ایپ کے ذریعے اپنی کاروبار کو پروموٹ کرسکتا ہے، اس ایپ کی مدد سے ایک خیراتی ادارہ چلا سکتا ہے، اس ایک کے ذریعے انسانوں کو زندگی کے اصول سکھایا جا سکتا ہے، کھیل کھود اور دوسرے انٹرٹینمنٹ ویڈیو دکھا سکتا ہے، احادیث کو سکھایا جاسکتا ہے۔ اسی طرح کے اور بھی بہت سے طریقے ہیں جن کی مدد انسان معاشرے اور انسانوں کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔
اب ایک بندہ ہوگا جس کی سوچ منفی ہوگی ہمیشہ کیلئے ایک اچھی چیز میں بھی اس کو حامی نظر آئے گی ہمیشہ کیلئے کسی چیز کا استعمال منفی طریقے سے کرے گا اب وہی بندہ جس کی سوچ منفی ہے، مثبت سوچ رکھنے والے کی برعکس اسی ایپ کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کرسکتا ہے۔ مختلف ایسے موضوعات پر لیکچردے سکتا ہے جو معاشرے میں بگاڑ کا سبب ہو، اس ایپ کے ذریعے فحاشی کو پھیلایا جا سکتا ہے اس ایپ کے ذریعے کسی کی عزت نیلام بھی کرسکتا ہے۔
اس ایپ کے ذریعے ڈانس، گانے بجانے یا فحاشی کے مراکز کو دکھا کر معاشرے کو تاریکی اور فحاشی کی طرف لے جایا جا سکتا ہے اس کے علاوہ منفی سوچ کی سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ نہ وہ انسان خود معاشرے کی فلاح اور اصلاح کیلئے تیار ہوسکتا ہے اور نہ دوسروں کو اس کام کیلئے تیار ہوتے دیکھ سکتا ہے۔
معاشرے اس بات حیال ضرور رکھا کریں کہ کسی سے بھی کسی کام کیلئے مشورہ لیتے ہوئے ایسے بندے سے لے جس کی سوچ مثبت اور وسیع ہو۔ تاکہ آپ کو کام کیلئے ایک مشورہ ملنے کے ساتھ ساتھ آپ کی حوصلہ افزائی بھی ہو جائے۔ ایک نفی سوچ والے سے اگر آپ ایک اچھے بھلے کام کیلئے مشورہ اور صلاح لینا چاہیں گے تو وہ آپ کی حوصلہ افزائی کی بجائے اس میں اتنی حامیاں نکالے گی کہ آپ کام کرنا ہی چھوڑدیں گے۔
