ہومکالم وبلاگزبلاگزمسجد ایک کمیونٹی سنٹر

مسجد ایک کمیونٹی سنٹر

تحریر: عادل ندیم

‎@Adil_347

مسلمانوں کے لیے مسجد ایک انتہائی قابل احترام جگہ تصور کی جاتی ہے جہاں باجماعت نماز ادا کی جاتی ہے اور مختلف عبادات کی جاتی ہیں۔

لیکن کیا مسجد کو معاشرتی مسائل کے حل کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا ؟ یا صرف مسجد میں نماز ہی ادا کی جا سکتی ہے؟

آج کی میری تحریر کا عنوان ھے “مسجد ایک کمیونٹی سنٹر”

جی ہاں مسجد کو ایک کمیونٹی سنٹر کے طور پربھی استعمال کیا جانا چاہیے۔

نکاح کا اہتمام مسجد میں ہونا چاہئے تا کہ اس میں برکت ہو۔ مسجد میں 99٪ لوگ جھوٹ نہیں بولتے تو اس بات کو معاشرتی فائدے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے لڑائی جھگڑوں کے تصفیے مساجد میں کرائے جائیں۔

حکومتی امداد مساجد میں تقسیم کرناچاہیے تا کہ اصل حقداروں تک وہ امداد پہنچ سکے۔

اخوت فاؤنڈیشن بلاسود قرض فراہم کرتی ھے اور اس کی واپسی کی شرح 99٪ ہے کیوں کہ  اخوت فاؤنڈیشن قرض کی رقم مقررہ تاریخ پر سب قرض لینے والوں کو بینک کے ساتھ منسلک مسجد میں دیتی ہے اور واپسی کا اقرار لیتی ہے۔

“بے شک حقوق اللہ تو معاف ہوجائیں گے لیکن حقوق العباد معاف نہیں ہوں گے

ہماری مساجد کے زیادہ ترامام صاحبان کے خطبات حقوق اللہ  کے گرد گھومتے ھیں ، حالانکہ زیادہ توجہ حقوق العباد پر ہونا چاہئے۔

لوگوں کو بتانا چاہیے کہ برداشت پیدا کریں ، غریبوں کی مدد کریں، لڑکیوں کو جائیداد میں حصہ دیں ، لڑکیوں کو تعلیم دیں ، بیوی سے محبت سے پیش آئیں ، بزرگوں کا احترام کریں ، چھوٹوں سے پیا کریں، اپنے ہمسائے کو تنگ نہ کریں ، کسی پر بہتان نہ لگائیں، کسی کی غیبت مت کریں ، مظلوم کا ساتھ دیں ، ووٹ صرف اور صرف ایک اچھے کردار کے مالک تعلیم یافتہ مقامی فرد کو دیں ، سود کا بائیکاٹ کریں ، رشوت دینے والا اور لینے والا دونوں جہنمی ہیں اس لئے رشوت کے خلاف ڈٹ جائیں ،رشتے جوڑیں نہ کہ توڑیں اور اس طرح کے دیگر معاشرتی مسائل پر بات کی جاسکتی ہے۔

امام صاحبان کو بہترین تنخواہ دینا چاہیے گر افسوس انہیں انتہائی کم مشاہرہ دیا جاتا ہے جس میں ان کی گزر بسر بہت مشکل سے ہوتی ہے۔ جب ایک امام صاحب فکر معاش میں ھیں گے تو وہ اوپر بیان کیے گئے عنوانات پر کس طرح بول سکتے ھیں ؟

مساجد میں اعلیٰ معیار کی لائبریری ہونا چاہیے جس میں اسلامی کتب کے ساتھ عصرحاضر کے دیگر علوم کی کتابیں بھی ہیں تا کہ ہماری آنے والی نسلیں دلیل کے ساتھ بات کرسکے۔

ان اقدامات سے معاشرے میں حقیقی تبدیلی آسکتی ھے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔