Tuesday, February 24, 2026
ہومکالم وبلاگزکرونا ویکسین اور مقناطیس

کرونا ویکسین اور مقناطیس

تحریر: زمان خان
سوشل میڈیا کے بے تحاشہ فوائد کے علاوہ انگنت نقصانات ہیں جن میں سرفہرست “پراپیگنڈہ” ہے جو کہ مختلف مقاصد کے لیے بڑے پیمانے پر کیا جاتا ہے۔ اور ایک خاص قسم کا پراپیگنڈہ جو آج کل کرونا ویکسین سے متعلق جاری ہے۔ پہلے ان بے سروپا دعووں کا جائزہ لیتے ہیں
جیسا کہ آج کل سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز بہت وائرل ہو رہی ہیں اور آپ نے دیکھی بھی ہوں گی،جن میں مختلف قومیت/ممالک کے افراد (مرد و خواتین) اپنے بازو پر جہاں کرونا ویکسین بقول انکے لگائی جا چکی ہے وہاں مقناطیس چپکا کر دکھاتے ہیں کہ بذریعہ ویکسین ان کے جسم میں “مائیکرو چپ” ڈال دی گئی ہے اور چونکہ وہاں “مائیکروچپ” موجود ہے تو اسی وجہ اب وہاں مقناطیس چپک رہا ہے اور باقی جسم کے کسی حصہ پر مقناطیس نہیں چپک رہا۔ تو کیا اس بات پر یقین کیا جاسکتا ہے؟یا یہ صرف ایک پراپیگنڈہ ہے؟اور اگر یہ پراپیگنڈہ ہے تو اس کا مقصد کیا ہے؟ پہلی بات اور سب سے اہم اور غور طلب، سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا واقعی ویکسین میں مائیکرو چپ موجود ہے۔
اگر واقعی ایسا ہے تو کیا کرونا ویکسین کا محلول مکمل طور پر مائیکرو چپ پر ہی مبنی ہے یعنی ایک ویکسین کی بوتل میں جس میں سے ایک انجیکشن میں معمولی مقدار میں دوا لی جاتی ہے وہ مکمل طور پر ہزاروں یا لاکھوں مایئکروچپس کا مجموعہ ہے؟یا پھر ایک ہیلتھ ورکر ہر ایک شخص کے انجیکشن میں پہلے ایک مائیکرو چپ ڈالتا ہے اور بعد میں دوا کا محلول؟ اگر ایس بھی نہیں تو پھر یقینا مائیکرو چپ کو معلوم ہے کہ جب بھی انجیکشن میں دوا کا محلول بھرا جائے تو انجیکشن میں صرف ایک مائیکرو چپ نے ہی جانا ہے اور بقیہ نے اگلے انجیکشن کے لیے وہیں انتظار کرنا ہے
کیونکہ ملٹی ڈوز پیکنگ زیادہ استعمال ہو رہی ہیں۔ یعنی ابھی تک یہ ثابت نہیں کہ ایک انسان میں ایک مائیکروچپ ڈالی جارہی ہے یا ہزاروں یا پھر لاکھوں؟کیونکہ آنکھ سے نظر نہ آنے والی یہ مائیکرو چپ جو کہ محلول کے اندر موجود ہے تو یقینا پھر اتنی ہی تعداد میں ہونگیں۔ دوسری اہم بات ان مسخروں کے لیئے جو 2021 میں بتا رہے ہیں کہ مقناطیس کہاں چپکتا ہے ،اگر واقعی کوئی ایسی مائیکرو چپ ہے جو کہ اتنی مائیکرو ہے کہ ایک باریک سوئی کی مدد سے آنسانی جسم میں داخل ہو جائے اور ایک سکے کے برابر مقناطیس کو چپکا کر رکھے اور گرنے نہ دے؟اگر ہاں تو۔۔۔کیوں ایک عام سوئی کی نوک پر وہی مقناطیس نہیں چپکایا جا سکتا اور گر جاتا ہے؟سوئی کی نوک پر اس لیے کہ مائیکرو چپ جس سوئی کے ذریعے جسم میں داخل ہوئی تو یقینا اس سوئی سے تو چھوٹی ہی ہو گی۔ کیا کوئی عام چپ یا مائیکرو چپ کرنٹ کے بغیر کام کرتی ہے؟اگرنہیں کرتی تو پھر یقینا اس مائیکرو چپ کے ساتھ بیٹری بھی ہو گی،تو کیا اس بیٹری کو ایک خاص مدت کے بعد چارج کیا جائے گا یا انسانی جسم سے ہی چارجنگ لے لے گی؟
آخری بات۔۔۔
جب ایک عام سی چپ ایسے مادہ سے بنائی جاتی ہے جس میں سے کرنٹ نہیں گزر سکتا تو مقناطیس کا چپکنا تو ممکن ہی نہیں۔
تو پھر اس مائیکرو چپ میں اتنا لوہا کہاں سے آ گیا کہ اتنا بڑا مقناطیس اٹھا لیتی ہے؟ پھر کیا اتنا بڑا منصوبہ جس میں دنیا بھر کے انسانوں کو کنٹرول کرنے کے لئیے اتنے پاپڑ بیل کر بنایا گیا اور اس منصوبے کے تحت جب مائیکرو چپ بنائی اور ڈالی گئی تو وہ لوہے کی بنا دی گئی
(غلطی سے۔۔۔)اگر ایسا ہی ہے تو یہ ایسی غلطی ہے جس پر رہتی دنیا کے سانسدان تا قیامت ماتم کرتے رہیں گے۔
یا پھر ان فضول اور بے مقصد اور سمجھ سے بالا تر ویڈیوز کی کوئی حقیقت نہیں سوائے،ویڈیوز کو وائرل کر کے پیسہ کمانے کے۔۔۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔