کوئٹہ (آئی پی ایس )سی پیک بلوچستان میں ترقی و خوشحالی کا ضامن ہے ، بلوچستان میں آباد قبائل پاک چین دوستی کے خیر خواہ ہیں ، گوادر میں انٹرنیشنل ائیرپورٹ ، بلوچستان میں روڈ نیٹ ورک ، گوادر میں صاف پینے کے پانی کے منصوبے سی پیک کا ثمر ہیں ، اگلے فیز میں گرین انرجی کے منصوبے صوبے کی تعمیر و ترقی میں انقلابی اقدامات ثابت ہوں گے ،سی پیک کے خلاف سازشیں کرنے والے اور ڈس انفارمیشن پھیلانے والے بلوچوں اور بلوچستان کے دشمن ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار بلوچستان کے قبائلی عمایدین میر فرید رئیسانی ، وڈیرہ غلام نبی شمبانی بگٹی ، ایم پی اے مینا مجید بلوچ ، رجسٹرار بلوچستان یونیورسٹی طارق جوگیزئی ،،شمس مینگل ، کامران کاکڑ ، میر اشفاق ، میر لونگ شاہوانی ، میر نصیب اللہ شاہوانی ، بابر خان خجک ، سابق ترجمان بلوچستان حکومت بابر یوسفزئی ، علاالدین کاکڑ ، میر خالق بخش رئیسانی نے سنٹر فار ڈویلپمنٹ اینڈ سٹیبیلیٹی کے زیر اہتمام کوئٹہ میں منعقدہ سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
تفصیلات کے مطابق کوئٹہ کے مقامی ہوٹل میں سی ڈی ایس کے زیر اہتمام سی پیک : ایک تقابلی جائزہ کے عنوان سے سیمنار کا انعقاد کیا گیا جس میں سی ڈی ایس کے سرپرست اعلی بریگیڈیر آصف ہارون راجہ ، ڈی جی سی ڈی ایس ڈاکٹر عرفان نے سی پیک پر تفصیلی بریفنگ کے دوران سی پیک کی صورت میں بلوچستان کو ملنے والے ترقیاتی فوائد پر روشنی ڈالی ، انہوں نے بتایا کہ سی پیک نے بلوچستان میں ترقی کی نئی راہیں کھولی ہیں ، اربوں روپوں کی لاگت سے تعمیر ہونے والا گوادر پورٹ ، گوادر میں انٹرنیشنل نوعیت کا بڑا ائیرپورٹ ، صاف پینے کے پانی کے منصوبے ، چینی کمپنیوں کی طرف سے چاغی اور دوسرے علاقوں میں سی ایس آر کی مد میں کروڑوں ڈالرز کی سرمایہ کاری ، مقامی افراد کو ٹیکنیکل ایجوکیشن کی فراہمی جیسے مواقع فراہم کئے ہیں اور اب فیز ٹو میں گرین انفراسٹرکچر کی تعمیر ، کلین اینڈ گرین انرجی کے منصوبے بلوچستان میں ترقیاتی انقلاب برپا کریں گے جس سے بلوچستان کے نوجوان مستفید ہوں گے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کے نوجوان کو اب صوبے کی ترقی میں کردار ادا کرنا ہو گا۔ سیمنار میں شریک صوبے کی قبائلی و سیاسی شخصیات ، نوجوان قیادت اور دیگر شعبہ جات کے ماہرین نے گفتگو کرتے ہوئے سی پیک کو بلوچستان کے روشن مستقبل سے تعبیر کیا ۔
قبائلی و سیاسی رہنما میر فرید رئیسانی ، چیئرمین ڈسٹرکٹ ڈیرہ بگٹی وڈیرہ غلام نبی شنبہانی بگٹی ، ایم پی اے مینا مجید بلوچ ، کامران کاکڑ ، بابر یوسفزئی ، میر نصیب اللہ شاہوانی ، بابر خجک ،میر خالق بخش رئیسانی ،میر لونگ شہوانی اور دیگر نے سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاک چین دوستی خطے میں امن و ترقی کا ضامن ہے ۔ جس کے براہ راست ثمرات بلوچستان کے لوگوں تک پہنچ رہے ہیں ۔روڈ کنیکٹیویٹی ، گوادر پورٹ کی تعمیر سمیت سی پیک نے مقامی لوگوں کی زندگیوں کو بدلنے میں کردار ادا کیا ہے ۔ قبائلی عمائدین کا کہنا تھا کہ چند عناصر منفی پروپیگنڈے کے زریعے عوام میں مایوسی پھیلانا چاہتے ہیں لیکن ہماری زمہ داری ہے کہ ہم اپنے روشن مستقبل کا تحفظ کریں اور سی پیک فیز سمیت ترقی کے تمام منصوبوں کا خیر مقدم کریں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سی پیک کے خلاف سازشیں کرنے والے بلوچ قوم یا بلوچستان کے خیر خواہ نہیں ہیں نہ ہی یہ لوگ بلوچ قوم کے نمائندے ہیں – آج جب بلوچستان میں ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے ایسے حالات میں صوبہ غیر یقینی کی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا – لہذا ہمیں بطور مقامی و قبائلی نمائندگان ایسے عناصر کو بے نقاب کرنا ہے اور اپنے روشن و خوشحال مستقبل کے لیے کردار ادا کرنا ہے ۔
