ہوماسلام آبادخواتین صحافیوں کا میڈیا ہائوسز میں صنفی آڈٹ کا مطالبہ

خواتین صحافیوں کا میڈیا ہائوسز میں صنفی آڈٹ کا مطالبہ

اسلام آباد،ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والی خواتین صحافیوں نے ہفتہ کے روز میڈیا ہائوسز اور دیگر فیصلہ ساز اداروں میں صنفی آڈٹ کا مطالبہ کیا،ان مطالبات کو ویمن جرنلسٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے زیر اہتمام احتجاج کا حصہ بنایا گیا۔

خواتین صحافیوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ میڈیا مالکان کو خواتین صحافیوں کی زیر التوا اجرت کی ادائیگی کے لئے پابند کریں اور موجودہ میڈیا بحران کے دوران ملازمت سے محروم ملازمین کو بحال کریں۔ انہوں نے کام کی جگہوں پر خواتین صحافیوں کے لئے بنیادی سہولیات کی فراہمی کا بھی مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا بحران کے دوران خواتین صحافیوں کی اکثریت اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھی ہے لیکن خواتین صحافیوں کو ہونے والے مالی نقصان کو ان کے متعلقہ میڈیا ہائوسز نے نظرانداز کیا ہے۔انہوں نے کسی بھی میڈیا تنظیم میں کم از کم 33 فیصد خواتین کی موجودگی کو یقینی بنانے کے لئے قانون میں ضروری ترمیم کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے یہ بھی مشورہ دیا کہ کسی بھی اخبار یا چینل کو کوئی لائسنس یا اعلان جاری نہ کیا جائے جب تک کہ ان کے عملہ میں کم از کم 33 فیصد خواتین ممبر کی حیثیت سے ملازمت نہ کریں۔انہوں نے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے سائبر کرائم سیل میں خواتین صحافیوں کو آن لائن ہراساں کرنے کے معاملات سے نمٹنے کے لئے خصوصی ڈیسک کے قیام کا مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے مشورہ دیا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے سوشل میڈیا سیلز کو الیکشن کمیشن آف پاکستان میں رجسٹرڈ کیا جائے اور ایسے سیلز کے لئے ضابطہ اخلاق وضع کیا جائے۔انہوں نے ہر میڈیا ہائوس یونین کے دفاتر اور پریس کلبوں میں خواتین کو ہراساں کرنے کیخلاف تحفظ برائے خواتین ایکٹ 2010 کے تحت جنسی طور پر ہراساں کرنے کی شکایات کمیٹیاں تشکیل دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے خواتین صحافیوں کے لئے ٹرانسپورٹ کی سہولیات کی فراہمی ، خواتین ملازمین کے لئے تین ماہ کی زچگی کی چھٹی پر قانون پر سختی سے عمل درآمد اور تنخواہوں میں مساوات ، بیٹ کی تقسیم اور ترقی کے یکساں مواقع پر زور دیا۔ انہوں نے اپنے مرد رفقا کار کے برابر انشورنس ، ورکنگ ویمن ہاسٹلز ، فلاحی منصوبوں اور سینئر خواتین صحافیوں کے لئے مفت طبی سہولتوں اور خواتین صحافیوں کے لئے آسان قرضوں کی فراہمی کے لئے 10 فیصد کوٹہ فراہم کرنے پر زور دیا۔اس موقع پر کنوینر برائے ویمن جرنلسٹس ایسوسی ایشن فوزیہ کلثوم رانا نے کہا کہ حکومت کو آئی ٹی این ای کے چیئرپرسن کی فوری تقرری کرنی چاہئیے کیونکہ آئی ٹی این ای میں میڈیا پرسنز کے متعدد معاملات زیر التوا ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔