ہومپاکستانقومی اسمبلی، 3065 ارب سے زائد کے 49 مطالبات زر منظور،عمران خان آئی ایم ایف کے سامنے کھڑے ہو گئے ہیں، شوکت ترین

قومی اسمبلی، 3065 ارب سے زائد کے 49 مطالبات زر منظور،عمران خان آئی ایم ایف کے سامنے کھڑے ہو گئے ہیں، شوکت ترین

اسلام آباد، قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیر خزانہ نے خزانہ ڈویژن کے 2273 ارب 85 کروڑ روپے کے 15 مطالبات زر ایوان میں پیش کئے جبکہ خزانہ ڈویژن کے مطالبات زر پر اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی 257 تحاریک پیش کی گئی۔

ایوان میں کٹوتی کی تحاریک پر بحث کرتے ہوئے ن لیگ کی ممبر قومی اسمبلی ابد ازاں عائشہ غوث پاشا نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزارت خزانہ اپنے کام اور معاشی مینجمنٹ میں ناکام ہے کرونا سے پہلے ہی معیشت کولیپس کی طرف جارہی تھی کرونا نے انہیں فیس سیونگ دی انہوں نے کہا کہ اسوقت ملک میں 4 ٹریلین کا بجٹ خسارہ ہے بجٹ کا خسارہ اتنا بڑا ہے حکومت کا نیٹ ریونیو کا 67 فیصد صرف قرض کی واپسی کی مد میں چلا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت خزانہ کی کوتاہی ہے کہ ہم اس سٹیج پر ہیں بجٹ کا اعلان کر دیا مگر آئی ایم ایف سے گفتگو شنید نہیں ہوئی۔ عائشہ غوث پاشانے کہا کہ حکومت معاشی پالیسی میں ناکام ہے حکومت قرضوں کی منیجمنٹ میں ناکام ہے 67 فیصد قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہورہا ہے بجٹ خسارہ 4 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکا ہے کورونا سے پہلے معیشت تباہ ہوچکی تھی انکا کہنا تھا کہ کورونا کی وجہ سے حکومت کو فیس سیونگ ملی بجٹ پیش ہوچکا ہے مگر آئی ایم ایف سے مذاکرات جاری ہیں آئی ایم ایف کے سامنے اسٹینڈ لینے پر وزیر خزانہ کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں ۔وزیر خزانہ شوکت ترین نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ اپنے گریبان میں جھانکیں 30 سال سے بجٹ اور ٹیکسوں کا نظام کیسے تھا یہ عوام کی۔بات کرتے ہیں ہم عوام کو گھروں۔کے لیے قرض۔دے رہے ہیں یہ آئی ایم ایف کی بات کرتے ہیں کیا ان کی حکومت آئی ایم ایف کے پاس نہیں گئیں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے 60 ارب ڈالرز کا ٹیکہ لگایا ان کی فلاڈ ایکنامک پالیسی کی وجہ سے 156 ارب ڈالرز کا تجارتی خسارہ کیا گیا انکا کہنا تھا کہ اگر یہ چیلنج کرنا چاہتے ہیں تو میں ان کو کاغذ دکھاوں گا پاکستان کی ایکسپورٹ گری انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ سے آئی ایم ایف آئی جب آئی ایم ایف آئی تو پھر کیا ہوتا ہے آئی ایم ایف کی وجہ سے شرح سود 13.25 فیصد ہوئی آئی ایم ایف آپ کی وجہ سے آئی۔اس سال 4 فیصد گروتھ ہوئی اگلے سال گروتھ 5 فیصد کریں گے عمران خان آئی ایم ایف کے سامنے کھڑے ہوگیا عمران خان غریب پر بوجھ نہیں ڈالیں گے انہوں نے کہا کہ اس سال 4700 ارب روپے سے زائد کا ٹیکس جمع کریں گے اگلے سال 5800 ارب روپے کا ٹیکس ہدف حاصل کریں گے اس سال پاکستان کا قرضہ 1.5 فیصد بڑھا ہے جبکہ پوری دنیا میں قرض 10فیصد سے زائد بڑھا ہے کورونا ویکسین کے لیے 1.5 ارب ڈالرز مختص کیے گئے ہیں انہوں نے کہا 10 کروڑ افراد کو ویکسین لگائیں گے ایف بی آر میں ریفارمز کر رہے ہیں شوکت ترین نے کہا کہ ٹیکسوں کا نظام ٹھیک نہیں ہے ہم اسے ٹھیک کرنے والے ہیں ہم عوام کو جا کر چھتیں فراہم کریں گے یہ کہتے ہیں کہ بجٹ آئی ایم ایف بناتا ہے انکا کہنا تھا کہ کیا یہ اپنے دور میں آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاتے تھیان کی ایکسچینج ریٹ پالیسی کے باعث ملک سے 67 ارب ڈالر نکلے انہوں نے کہا کہ روپے کی قدر میں کمی مجبوری تھی نون لیگ کے دور کے آخر میں مفتاح اسماعیل نے بھی روپے کی قدر میں کمی کی انکا کہنا تھا کہ رواں مالی سال ٹیکس وصولیوں کا سینتالیس سو ارب روپے کا ہدف کراس کریں گے اس وقت پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی چار سے پانچ روپے فی لیٹر ہے نون لیگ پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی 30 روپے لیٹر پر چھوڑ کر گئی تھی انہوں نے کہا کہ عمران خان غریب آدمی پر بوجھ نہیں ڈالے گا وزیراعظم آئی ایم ایف کے سامنے کھڑے ہوگئے ہیں ۔بعدازاں خزانہ ڈویژن کے 2273 ارب 85 کروڑ روپے کے 15 مطالبات زر منظور ہوگئے، خزانہ ڈویژن کے مطالبات زر پر اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی 257 سے زائد تحاریک مسترد کر دی گئی گرانٹ، سبسیڈیز کی مد میں 1159 ارب روپے کا مطالبہ زر منظور، تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی مد میں 160 ارب روپے کا مطالبہ زر بھی منظور۔مجموعی طور پر تین وزارتوں و ڈویژنز کے 3065 ارب 45 کروڑ روپے کے 49 مطالبات زر منظور کئے گئے جبکہ مجموعی طور پر اپوزیشن کی کٹوتی کی 824 تحاریک مسترد کر دی گئے۔ایوان سے خطاب کرتے ہوئے شوکت ترین نے کہا کہ خیبر پختونخواہ کے بجلی کے خالص منافع کی مد میں 86 ارب روپے بقایا جات ہیں اس سال 25 ارب روپے کے پی کے کو بجلی کے خالص منافع کی مد میں ادا کریں گے انہوں نے کہا کہ کورونا کے دوران پوری دنیا میں ڈیٹ ٹو جی ڈی پی شرح 10 فیصد بڑھی ہے ،پاکستان میں ڈیٹ ٹو جی ڈی پی کی شرح ایک اعشاریہ پانچ فیصد بڑھی۔2023 تک ٹیکس وصولیاں سات ہزار ارب روپے تک لے کر جائیں گے انکا کہنا تھا کہ ٹیکس ڈیفالٹرز کی گرفتاری کا اختیار مجھ سمیت دو دیگر افراد کے پاس ہوگاممبر قومی اسمبلی سید حسین طارق نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس سال 1.248 ٹریلین کی سپلیمنٹری گرانٹس جاری کی گئیں یہ ساری رقم حکومت خرچ کرچکی ہے سید حسین طارق نے کہا کہ اب حکومت اس کی منظوری لے رہی ہے یہ پارلیمنٹ کو غیر فعال کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ حکومت کی فنانشل منیجمنٹ بہت کمزور ہے ایف بی آر کو 40 ارب روپے کی سپلیمنٹری گرانٹس دی گئیں انکا کہنا تھا کہ ایف بی آر کو ٹیکس ریفنڈز کے لیے سپلیمنٹری گرانٹس دی گئیں سید حسین طارق نے کہا کہ اے جی پی نے اس پر اعتراض لگایا ہے۔سپلیمنٹری گرانٹس اصل بجٹ سے زیادہ نہیںہوسکتیں،پے اینڈ پینشن کمیشن نے تین سال میں کیا سفارشات دیں ۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔