اسلام آباد:ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ وزیراعظم 4 سے 8 جون تک چین کا دورہ کریں گے ،وزیراعظم کے دورہ چین سے اچھی خبریں آئیں گی ،سی پیک اور سکیورٹی کے حوالے سے ایشوز موجود ہیں ،اپنے دورہ چین میں ان ایشوز پر بات چیت کرکے آیا ہوں ،وزیراعظم کے دورہ چین میں بھی اس حوالے سے بات چیت ہوگی ،
پارلیمنٹ ہائوس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ چینی انجینئرز پر حملے کے ملزمان تک پہنچے ہیں،سیکرٹری داخلہ اور دفترخارجہ کے افسران کابل گئے ہیں ،چینی شہریوں پر حملوں میں ملوث لوگوں پر افغان حکام کو اعتماد میں لیا جائے گا ۔
انہوں نے کہا کہ سعودی ولی عہدہ بھی دورہ پاکستان پر آئیں گے ، محمد بن سلمان کے والد کی طبیعت خراب ہے ،محمد بن سلمان نے صرف پاکستان ہی نہیں جاپان کا دورہ ملتوی کیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ سب کہتے تھے پاکستان عالمی تنہائی کا شکار ہے ، پاکستان عالمی تنہائی سے نکل چکا ہے ،معاشی استحکام کے حوالے سے مثبت سمت میں جارہے ہیں۔ معیشت میں بہتری آرہی ہے ،
ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار نے جسٹس اطہرمن اللہ کے بیان پر تبصرہ سے گریزکیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ جسٹس اطہر من اللہ نے وزیراعظم کو جو جواب دیا اس پر وزیراعظم سے پوچھیں ،
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کو ٹیک آف کرنے کے دوران کتنی بار گرانا ہے ،ہم پاکستان کو کئی بار ٹیک آف کرتے گرا چکے ،ہم تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر چلیں گے ،
عدلیہ کی بہت عزت و احترام ہے ، وہ عزت رہے گی ۔
سابق امریکی صدر ٹرمپ کو سزا کے حوالے سے ابھی پراسس باقی ہے ۔
اسرائیل کی جانب سے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے پر ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کی نسل کشی ہورہی ہے ،عالمی برادری کا فلسطین کی صورتحال پر ضمیر جاگا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب تک مسئلہ فلسطین کا دو ریاستی حل نہیں ہوگا مڈل ایسٹ میں امن نہیں ہوسکتا ،
نائب وزیراعظم نے کہا کہ القدس شریف کو فلسطین کا کیپیٹل ہونا چاہیے ،فلسطین میں فوری جنگ بندی ہونی چاہیے ۔ وار کریمنلز کو سزا ملنی چاہیے ۔
یورپی ممالک کا فلسطین کو تسلیم کرنا بڑا بریک تھرو ہے ۔اسحاق ڈار نے کہا کہ خیبرپختونخواہ کا بجٹ وفاقی بجٹ سے پہلے منظور ہونا معمول سے ہٹ کر ہے ، چار وفاقی اکائیوں کا بجٹ مل کر وفاق کا بجٹ بنتا ہے ۔ خیبرپختونخواہ حکومت کو کیا الہام ہوا کہ انہیں کیا شیئر ملے گا ۔ خیبرپختونخواہ حکومت کو وفاقی بجٹ کے بعد اپنا بجٹ تبدیل کرنا پڑے گا ۔ مہنگائی میں کمی آرہی ہے ۔
اسحاق ڈارنے مزید کہا کہ جو ریاست کے خلاف کھڑا ہوگا اس سے مذاکرات نہیں ہوں گے ، مذاکرات اور مفاہمت پر میرا پختہ یقین ہے ، اسی پارلیمنٹ کے سامنے 126 دن کے دھرنے کو مذاکرات سے اٹھایا تھا ، سیاست میں مفاہمت اور مذاکرات ہوتے ہیں اور ہونے چاہئیں ۔ سانحہ نو مئی ریاست کے خلاف اٹھنا تھا ، جی ایچ کیو ، جناح ہائوس اور تنصیبات پر حملہ کرنے پر کوئی معافی نہیں دے سکتا ، فارمیشن کمانڈرز میٹنگ میں جس موقف کا اظہار کیا وہ ہر پاکستانی کا موقف ہے ، سانحہ نومئی میں ملوث عناصر کے لیے کوئی رعایت مناسب نہیں ۔
جو ریاست کے خلاف کھڑا ہوگا اس سے مذاکرات نہیں ہوں گے ،اسحاق ڈار
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
