استنبول (سب نیوز)پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور مسلح افواج کے سربراہان نے مکہ معاہدہ برائے مشترکہ دفاع کے تحت قائم اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی، جو 31 اگست 2026 کو استنبول میں منعقد ہوا۔ مشترکہ اعلامیے کے مطابق تینوں ممالک نے علاقائی ذمہ داری کے احساس کے ساتھ مکہ معاہدے کے فریم ورک میں مل کر کام جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کو یقینی بنایا جاسکے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تینوں ممالک کشیدگی میں کمی اور تحمل کے لیے کوششوں کی حمایت جاری رکھیں گے تاکہ بحرانوں کا پرامن حل تلاش کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاسکے۔اجلاس میں مکہ معاہدے کے تحت تعاون کو مزید ادارہ جاتی بنانے کے لیے اقدامات کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ اس تعاون کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان یکجہتی کو فروغ دینا، مشترکہ دفاعی روک تھام اور دفاع کی ساکھ و مثریت کو یقینی بنانا اور منصفانہ، جامع اور پائیدار امن کے لیے علاقائی کوششوں اور مشترکہ سلامتی میں کردار ادا کرنا ہے۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق مکہ معاہدے کے فریم ورک کے تحت تینوں ممالک کے باہمی تعاون اور کام کو معاونت فراہم کرنے کے لیے سعودی عرب میں ایک سیکریٹریٹ قائم کیا جائے گا، جس کی سربراہی سیکریٹری جنرل کریں گے۔سیکریٹریٹ کے پہلے سیکریٹری جنرل کا تعلق پاکستان سے ہوگا، جو 3 سال کی مدت کے لیے اس ذمہ داری پر فائز رہیں گے۔تینوں ممالک نے مشترکہ سرگرمیوں کے ذریعے اپنی دفاعی صلاحیتوں اور مسلح افواج کے باہمی تعاون و ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا۔
اس مقصد کے لیے مضبوط دفاعی صنعتی تعاون، مشترکہ ٹیکنالوجی کی تیاری اور مشترکہ پیداوار کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ مکہ معاہدے پر ادارہ جاتی اور پرعزم انداز میں عملدرآمد کے ذریعے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ خطے کے امن اور استحکام میں اہم کردار ادا کریں گے۔
مکہ معاہدہ برائے مشترکہ دفاع، پاکستان،سعودی عرب اور ترکیہ کا تعاون مزید ادارہ جاتی بنانے پر اتفاق
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
