اسلام آباد:تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت نے نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ سے ملاقات کی ۔
ملاقات میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان، اسد قیصر ،نیشنل پارٹی کے سینیٹر جان محمد بلیدی ،بی این پی کے راہنما ساجد ترین، اسد نقوی، ترجمان تحریک تحفظ آئین اخونزادہ حسین ،نیشنل پارٹی کے رکن قومی اسمبلی پھلین بلوچ بھی شریک تھے ۔
اسد قیصر نے تحریک تحفظ آئین پاکستان کا پیغام نیشنل پارٹی کی قیادت کو پہنچایا،ملاقات میں ملکی مجموعی سیاسی صورتحال پر گفتگو ہوئی ۔
ملاقات میں بلوچستان کی صورتحال پر تفصیلی بات چیت ہوئی ۔
اسد قیصر نے کہا کہ ہمارا ایک نکاتی ایجنڈہ ہے ہم ملک میں آئین کی حکمرانی چاہتے ہیں،قانون کی حکمرانی نے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے،ملک میں پارلیمنٹ کو بالادست کرنا ہوگا،عدلیہ کے خلاف ایک منظم مہم چلائی جارہی ہے،انتخابات میں کامیاب ہونے والی حقیقی قیادت کو پارلیمنٹ میں لانا ہوگا۔ اپوزیشن کی جماعتوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ جس طرح سے ملک کو چلانے کی کوشش کی جارہی ہے ایسے نہیں چل سکتا۔
ہماری مولانا فضل الرحمن سمیت ہم خیال جماعتوں سے ملاقات ہوئی۔
اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان نے کہا کہ ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی قائم نہ ہوئی تو یہ ملک نہیں چل سکے گا۔ بانی چئیرمین نے پیغام دیا ہے کہ یہ جتنا چاہیے ظلم کر لیں میں ظلم کے خلاف آواز اٹھاتا رہوں گا۔ ہماری جدوجہد ملک میں حقیقی آزادی تک جاری رہے گی۔
جمہوریت میں پارلیمنٹ کو بالادستی کو یقینی بنانا ہوگا۔
ڈاکٹر مالک بلوچ نے کہا کہ بلوچستان اس وقت شدید سیاسی مسائل کا شکار ہے عوام کے مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے اور اس کا سیاسی حل نکالنے کی ضرورت ہے، پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کو اپنا سیاسی کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔
اسد قیصر نے کہا کہ پنجاب کو پولیس اسٹیٹ بنادیا گیا۔ ملک میں اس وقت آئین معطل ہے۔ پاکستان تحریک انصاف ملک کی واحد جماعت جو وفاق کی علامت ہے۔
عمر ایوب خان کا کہنا تھا کہ 8 فروری کو الیکشن چوری کیا گیا۔ عوام کا اعتماد موجودہ نظام سے اٹھ رہا ہے۔
ڈاکٹر مالک بلوچ نے کہا کہ نیشنل پارٹی کی قیادت نے اتحاد میں شمولیت کے حوالے سے پارٹی کی مرکزی کمیٹی میں بات رکھی جائے گئی اور جو فیصلہ ہوا وہ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو آگاہ کیا جائے گا۔
کیانیشنل پارٹی ،تحریک تحفظ آئین پاکستان اتحاد کا حصہ بنے گی ؟ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے بتادیا
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
