ہومپاکستانگھوٹکی کے قریب خوفناک ٹرین حادثہ ، 30جاں بحق ،50زخمی،وزیراعظم کااظہار افسوس، حادثے کی جامع تحقیقات کا حکم

گھوٹکی کے قریب خوفناک ٹرین حادثہ ، 30جاں بحق ،50زخمی،وزیراعظم کااظہار افسوس، حادثے کی جامع تحقیقات کا حکم

گھوٹکی ،گھوٹکی میں ڈہرکی کے قریب خوفناک ٹرین حادثے میں 30جاں بحق جبکہ 50زخمی ہوگئے ،ٹرین حادثے کے وقت ملت ایکسپریس میں 635 مسافر موجود تھے،ٹرین حادثے سے قبل 118 افراد روہڑی اور دیگر اسٹیشن پر اتر گئے تھے جبکہ ملت ایکسپریس کے اے سی بس 52 ،اکانومی کلاس میں 713 افراد سوار تھے،کراچی سے فیصل آباد جانے والی ملت ایکسپریس میں765مسافرسوار تھے،ڈہرکی کے قریب ٹرین حادثہ، ٹرینوں میں ایک ہزار 269مسافرسوار تھے۔ریلوے حکام کے مطابق ملت ایکسپریس اور سرسید ایکسپریس حادثے کا شکار ہوگئیں،جس کے نتیجے میں 30 مسافر جاں بحق جبکہ 50 زخمی ہوگئے۔ملت ایکسپریس کراچی سے سرگودھا روانہ ہوئی، ٹرین منزل کی جانب رواں دواں تھی کہ ڈہرکی کے قریب پہنچی تو اچانک پٹڑی سے اتر گئی،بوگیاں ڈی ریل ہوئے 2گھنٹے بیت چکے تھے ،اس دوران لاہور سے دوسرے ٹریک سے سرسیدایکسپریس ٹرین آن پہنچی اور پٹڑی سے اتری ملت ایکسپریس کی بوگیوں سے جاٹکرائی۔حادثے میں 30 مسافروں کے جاں بحق جبکہ 50 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، 40زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا جبکہ سکھر، گھوٹکی اور میرپور ماتھیلو کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ نافذ کردی گئی۔حادثہ ڈہرکی اورریتی ریلویاسٹیشن کے قریب پیش آیا،بوگیوں میں پھنسے مسافروں کو نکالنے کیلئے ریسکیوآپریشن جاری ہے، بوگیوں کوکاٹ کرمسافروں کو نکالا جارہاہے ،ہیوی مشینری اب تک پہنچائی نہ جاسکی ۔ریلوے حکام کے مطابق ملت ایکسپریس کراچی سے سرگودھا جارہی تھی،سرسیدایکسپریس پنجاب سے کراچی جارہی تھی،حادثے کے بعد دیگر ٹرینوں کو مختلف اسٹیشنزپر روک لیاگیا۔ڈہرکی حادثے کے بعد ملک بھر میں ٹرینوں کی آمدو رفت معطل ہیں ، لاہور سے کراچی جانیوالی گرین لائن صادق آباد اسٹیشن پر روک لی گئی جبکہ رحمان بابا ایکسپریس رحیم یارخان اسٹیشن پر موجود ہے ۔ادھر حادثے کے بعد راستے میں موجود لاہور سے روانہ ہونیوالی علامہ اقبال ایکسپریس کراچی پہنچ گئی جبکہ دوسری ٹرین بھی لاہور سے کراچی پہنچ رہی ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے ڈہرکی حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انکوائری کا حکم دے دیا۔وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ٹرین حادثے میں 30 مسافر جاں بحق ہوئے، زخمیوں کی طبی امداد کو یقینی بنایا جائے، ریلوے سیفٹی کی خرابیوں کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما وسابق وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ ڈہرکی ریلوے حادثہ میں 30 سے زائد انسانی جانوں کے ضیاع پہ انتہائی دکھ اور افسوس ہوا-یہ بات ناقابل معافی ہے کہ جائے حادثہ پہ ٹریک کی بدحالی کی رپورٹ ریلوے حکام نے دے رکھی تھی مگر نالائق اور نااہل حکمرانوں نے اس پر کسی قسم کی کاروائی نہیں کی-اللہ مرحومین کے اہل خانہ کو صبر دے آمین!

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔