اسلام آباد ،آل پارٹیز حریت کانفرنس کے سیکرٹری اطلاعات عبدالحمید لون نے آزاد کشمیر انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وسائل کے اعتبار سے کمزورضرور ہوں لیکن حوصلے مضبوط ہیں، افسوس ہے کہ مجھے نظر انداز کرکے ویلی 4 سے پی ٹی آئی کی طرف سے ایک ایسے شخص کو نامزد کیا گیا جس کا عوامی خدمت کوئی بیک گراونڈ نہیں،ان کے اندر دوسری نوعیت کی صلاحیتیں ہوسکتی ہیں لیکن آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں کوئی رول ادا کرنے کی صلاحیت نہیں ، ٹکٹ کیلئے تحریک آزادی کشمیر کے ایک اہم کارکن کو نظر انداز کرنا انصاف کے مطابق نہیں ہے ،پی ٹی آئی قیادت حلقہ ویلی 4کے ٹکٹ کے حوالے سے فیصلے پر نظر ثانی کرے ۔
ہفتہ کو نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سے وابستہ کچھ ذمہ داروں نے مجھے مشورہ دیا ہے کہ میں الیکشن میں حصہ لوں، میں نے اس سلسلے میں اپنے دوستوں سے مشورہ کیا اور کافی غور و خوض کیا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ مجھے یہ قدم اٹھانا چاہئے جس کا مقصد اس بات کی کوشش کرنا ہے کہ آزاد کشمیر حقیقی معنوں میں کشمیر کی آزادی کیلئے بیس کیمپ بنے، آزاد کشمیر حکومت اپنی ذمہ داریوں میں سے ایک اہم ذمہ داری یہ رکھے کہ وہاں کی مومنٹ کو مضبوط بنانے اور پورے زور و شور سے پوری دنیا کو مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے متحرک کرے۔انہوں نے کہا کہ مہاجرین کشمیر کے جتنے بھی مسائل ہیں ان کے حل کی کوشش کی جائے اور ان کی آباد کاری،نوجوانوں کے روزگار،تعلیمی سہولتوں وغیرہ کے حوالے سے موثر رول ادا کیا جائے، تحریک آزادی کے حوالے سے کشمیری عوام اور پاکستان کو ایک پیج پر رکھنے کی کوشش کی جائے اور اس سلسلے میں پاکستان دشمن عناصر کے راستے میں مضبوط دیوار بننے نیز کشمیری عوام کی فطری رجحان یعنی الحاق پاکستان کے نظریے کو مضبوط کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ مجھے نظر انداز کرکے ویلی 4 راولپنڈی کے ایک ایسے شخص کو نامزد کیا گیا جس کا نہیں عوامی خدمات کے حوالے سے کوئی بیک گرانڈ ہے اور نہ تحریک آزادی کے حوالے سے ،ان کے اندر دوسری نوعیت کی صلاحیتیں ہوسکتی ہیں لیکن آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں کوئی رول ادا کرنے کی صلاحیت نہیں ہے ، ٹکٹ کے حوالے سے تحریک آزادی کشمیر کے ایک اہم اور معروف کارکن کو نظر انداز کرنا انصاف کے مطابق نہیں ہے ،میں نے پی ٹی آئی کی قیادت کو نظر ثانی کی درخواست دی ہے اور مجھے امید ہے کہ یہ منظور کی جائے گی اور حلقہ ایل اے ویلی 4 کا ٹکٹ مجھے دیا جائے گا تاکہ چالیس ہزار مہاجرین 1989 کے مہاجرین موجود ہیں جو 1989 کے بعد یہاں ہیں، ان کی حوصلہ افزائی ہوجائے اور کشمیری عوام کی ہمت بڑھے اور اس حلقے سے پی ٹی آئی کی فتح یقینی بن جائے کیوں کہ جس شخص کو نامزد کیا گیا ہے وہ ایک غیر معروف شخص ہے جس کے جیتنے کے امکانات صفر ہیں ۔
