تہران (آئی پی ایس )ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد نے دستوری کونسل کی طرف سے صدارتی انتخابات کی دوڑ سے باہرکیے جانے کے بعد ریاستی رازوں سے پردہ اٹھا دیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق حال ہی میں احمدی نژاد نے کہا تھا کہ اگر انہیں صدارتی امیدوار کے طور پرقبول نہ کیا گیا توہ ریاستی راز افشا کردیں گے۔ ایران کی دستوری کونسل نے ان کے صدارتی الیکشن کے لیے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے ہیں جس کے بعد انہوں نے ریاستی رازوں کا افشا شروع کردیا ہے۔اہم ریاستی اور حساس رازوں میں ایک اہم راز 11 اپریل کو ایران کے نطنز جوہری پلانٹ میں ہونے والے دھماکے ہیں۔ ان کے بارے میں احمدی نژاد نے کہا کہ نطنز جوہری پلانٹ میں ہونے والا نقصان 10 ارب ڈالر سے زیادہ ہے مگر حکومت نے کہا تھا کہ نطنز پلانٹ میں ہونے والے دھماکوں سے زیادہ نقصان نہیں ہوا ہے۔اس کے ساتھ احمدی نژاد نے ایک اور رازکا بھی پردہ چاک کیا۔ انہوں نے کہا کہ “توقوزآباد” پلانٹ جوہری دستاویزات چوری کی گئیں۔ سابق ایرانی صدر نے پہلی بار انکشاف کیا کہ ایران کے خلائی پروگرام کی حساس دستاویزات بھی چوری کی گئی ہیں۔احمدی نژاد کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انہیں دستوری کونسل کی طرف سے صدارتی انتخابات کیلئے نا اہل قرار دیا گیا ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ یہ انٹرویو انہوں نے کونسل کی طرف سے نااہل قرار دیے جانے سے قبل دیا تھا۔ اس میں انہوں نے ریاستی اداروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کی ان کی جاسوسی اور نگرانی کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کا دستور کہاں لکھا ہے کہ سیاسی کارکنوں کی جاسوسی کی جائے؟۔۔ میری جاسوسی کے لیے میرے گھر کے باہر جاسوسی کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔ سیکیورٹی مافیا مختلف مواقع کو میرے خلاف دھمکیوں میں تبدیل کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی ادارے میرے گھر کے باہر جاسوسی کیمرے نصب کرنے کے بجائے نطنز کے جوہری پلانٹ کے باہر کیمرے نصب کریں تاکہ پلانٹ میں دھماکوں اور قوم کو ارب ڈالر کے نقصان سے بچایا جاسکے۔ سیکیورٹی اداروں کو تورقوز آباد میں خفیہ کیمرے لگانے چاہییں تاکہ حساس دستاویزات کی چوری روکی جاسکے۔ میرے گھر کی جاسوسی کے بجائے خلائی پروگرام کی سیکیورٹی سخت کی جائے تاکہ اس کی معلومات اور دستاویزات کی چوری روکی جاسکے۔سابق ایرانی صدر نے استفسار کیا ہے کہ ایران کے سیکیورٹی ادارے میرا تعاقب کیوں کرتے ہیں؟۔ میری زندگی کھلی کتاب کی طرح ہے جس میں کوئی بات پوشیدہ نہیں۔ اگر میری سرگرمیوں پر شک ہے تومجھے خفیہ کیمرہ دیں جسے میں اپنے کپڑوں پر لگا دوں۔خیال رہے کہ ایران کے کسی اہم سیاسی رہ نما اور سابق صدر کا نطنز کیجوہری پلانٹ پر ہونے والے نقصان کے بارے میں پہلا ایسا بیان سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ گیارہ اپریل کو پلانٹ پرہونے والے دھماکوں میں دس ارب ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔ اس پلانٹ پریورینیم افزودہ کیا جا رہا ہے۔
احمدی نژاد کا ایران کے خلائی پروگرام کی دستاویزات چوری کا انکشاف
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
