Wednesday, May 20, 2026
ہومتازہ ترینغزہ میں مزید 208فلسطینی جاں بحق، شہدا کی تعداد 18ہزار 200سے تجاوز

غزہ میں مزید 208فلسطینی جاں بحق، شہدا کی تعداد 18ہزار 200سے تجاوز

غزہ (سب نیوز )غزہ میں سڑسٹھویں روز بھی اسرائیلی جارحیت جاری ہے، گزشتہ چوبیس گھنٹے میں مز ید دو سو آٹھ فلسطینی شہید اور چارسو سولہ زخمی ہوگئے۔ غزہ میں شہید فلسطینیوں کی تعداد اٹھارہ ہزار دوسو پانچ ہوگئی۔اسرائیلی کی غزہ میں وحشیانہ کارروائیاں جاری ہیں۔

صیہونی فورسز کی جانب سے بچے اور خواتین سمیت عام شہریوں کو شہید کیا جارہا ہے جبکہ سول انفرا اسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے۔رفاہ بارڈر پر بھی اسرائیلی بمباری میں بیس فلسطینی شہید ہوئے، گزشتہ چوبیس گھنٹے میں غزہ سے تینتیس زخمی فلسطینی اور چارسو اکسٹھ غیرملکی افراد مصر منتقل کیے گئے۔اسرائیل اب تک اقوام متحدہ کی اکتالیس تنصیبات تباہ کرچکا ہے، بمباری میں دوسو چھیانوے فلسطینی ہیلتھ ورکرز شہید ہوچکے ہیں۔ حماس کے 7 اکتوبر کے اسرائیل پر حملے کے بعد سے غزہ میں شہید فلسطینیوں کی تعداداٹھارہ ہزار دوسو پانچ ہوگئی ہے۔ اسرائیلی بمباری میں 49 ہزار سے زائد فلسطینی زخمی ہوچکے ہیں۔دوسری طرف امدادی سامان لے کر سو ٹرک غزہ میں داخل ہوئے اور ایک لاکھ بیس ہزارچھ سو لیٹر ایندھن کی بھی غزہ تک رسیل ممکن ہوئی۔ایک روز قبل المغازی کیمپ پر بمباری میں 55 فلسطینی شہید ہوئے جب کہ ایک ہی روز میں اسرائیل کے 250 حملوں میں 300 افراد شہید ہوئے۔گزشتہ روز غیر ملکی میڈیا کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے جبالیہ کیمپ میں اقوام متحدہ کے ایک اسکول اور وسطی غزہ میں گھر کو بھی نشانہ بنا ڈالا جس کے نتیجے میں درجنوں افراد شہید و متعدد زخمی ہوئے، ادھر خان یونس کا مرکزی اسپتال النصر شہیدوں اور زخمیوں سے بھرگیا۔

دوسری طرف امریکی صدر جوبائیڈن نے اسرائیل کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھنے کا عزم کا اظہار کیا ہے۔وائٹ ہاوس میں جاری تقریب میں امریکی صدر نے کہا کہ حماس کو ختم کرنے تک اسرائیل کی فوجی امداد جاری رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ عالمی رائے عامہ ایک ہی رات میں بدل بھی سکتی ہے۔اس دوران امریکی صدر نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے اپنے مضبوط تعلق کا بھی اشارہ دیا۔دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا ہے کہ غزہ میں حماس کی قیادت کو زندہ چھوڑنے والی جنگ بندی ناقابل قبول ہوگی، غزہ جنگ کا واحد حل عسکری حل ہے۔انہوں نے کہا ہم سمجھتے ہیں کہ حماس کی قیادت کو ختم کرنے کا صرف فوجی حل ہوسکتا ہے جس نے 7 اکتوبر کے حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی، بلآخر اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان وسیع تر تنازع کو فوجی طریقے سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ادھر وائٹ ہاوس اور امریکی سینیٹ کی عمارت میں یہودی مظاہرین نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے مظاہرہ کیا جس دوران متعدد مظاہرین کو گرفتار کرلیا گیا۔علاوہ ازیں اسرائیل نے حماس سے جنگ بندی کرانے کیلیے مصر اور قطر سے رابطہ کیا، اسرائیلی وزیر دفاع نے چند روز بعد یہ دعوی پھر دہرادیا کہ شمالی غزہ میں حماس بریکنگ پوائنٹ کے قریب ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔