اعتصام الحق ثاقب
حال ہی میں چین نے ایک دستاویز شائع کی ہے جس میں اگلے 10 سالوں میں بیلٹ اینڈ روڈ تعاون کے کلیدی شعبوں اور سمتوں کی وضاحت کی گئی ہے۔اس دستاویز کا نام بیلٹ اینڈ روڈ تعاون کے لئے وژن اور اقدامات ، اگلی دہائی کے لئے روشن امکانات ہے۔
اکتوبر 2023 میں منعقد ہونے والے بیلٹ اینڈ روڈ فورم کی مرکزی تقریب میں چین کے صدر شی جن پھنگ نے بی آر آئی کے گزشتہ دس سالوں کی کیامیابیوں کا ذکر کرنے کے بعد اگلے دس سالوں کے لئے بھی حکمت عملی اور سمت کی نشاندہی کرتے ہوئے بنیادی نکات کا ذکر کیا تھا جس میں گرین ڈیجیٹل ترقی ،مواصلات، سپلائی چین ،مصنوعی ذہانت،انفارمیشن ٹیکنالوجی اور اداروں میں اصلاحات شامل تھے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ چین کے مجوزہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) نے عالمی معیشت میں ترقی کی نئی رفتار اور عالمی ترقی کے لئے وسیع گنجائش پیدا کی ہے۔ شاید یہ دنیا کا واحد کثیر جہتی اور کثیر ملکی ،منصوبہ ہے جو اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر طویل مدتی راہ متعین کرتا ہے اور پھر اس کے لئے حکمت عملی بھی مرتب کرتا ہے
ماہرین کا یہ خیال ہے کہ نیا ایکشن پلان اس وقت سامنے آیا ہے جب اس منصوبے نے عالمی خدشات کا بھرپور جواب دے کر اپنے مستقبل کے روشن ہونے کی واضح دلیل فراہم کی ہے اور ساتھ ہی نئی دنیا میں آئندہ کے چیلنجز جیسے جدت طرازی، ڈیجیٹل معیشت ،ماحول دوست ترقی اور مصنوعی ذہانت جیسے تعاون کے نئے شعبوں کو مخاطب کیا ہے ۔
دستاویز کے مطابق نیا ایکشن پلان تجارت اور جدید ترین ٹیکنالوجیز بشمول انٹرنیٹ، انٹرنیٹ آف تھنگز، بگ ڈیٹا، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور بلاک چین کےانضمام کو فروغ دینے پر بھی توجہ مرکوز کرے گا اور اگلی دہائی میں، تمام فریقوں کو مساوی تعاون اور باہمی فائدے کے لئے کوشش کرنے کی ترغیب دے گا جس سے بی آر آئی تعاون کو ایک نئے مرحلے میں لے جایا جائے گا۔
چین اور بی آر آئی پارٹنر ممالک کے درمیان ڈیجیٹل تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں کیونکہ چین ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی تعمیر اور ڈیجیٹل ترقی میں وسیع تجربہ رکھتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے حوالے سے چین اور بی آر آئی کے شراکت دار مصنوعی ذہانت کی گورننس اور قواعد اور مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کی تحقیق اور ترقی پر تعاون اور تبادلوں کو مضبوط بنا سکتے ہیں جس سے ڈیجیٹل معیشت کی ترقی میں بھی مدد مل سکے گی ۔
اس کے علاوہ صنعتی اور سپلائی چین کو زیادہ لچکدار بنانا اور آزاد تجارتی معاہدوں کے دائرہ کار کو بڑھانا مستقبل میں بی آر آئی تعاون پر توجہ مرکوز کرے گا۔
آنے والی دہائی میں سپلائی چین کا شعبہ بھی انتہائی اہم کردار ادا کرے گا ۔اس حوالے سے حال ہی میں چین نے دنیا کی پہلی سپلائی چین ایکسپو کا بھی انعقاد کیا ہے جس میں کئی ممالک نے حصہ لیا۔ بی آر آئی کے تحت بین الاقوامی تعاون کو گہرا کرنے سے عالمی صنعتی چین اور سپلائی چین کے آپریشنز کو اہم تحریک ملے گی۔نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن (این ڈی آر سی) کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 10 سالوں میں چین اور بی آر آئی کے شراکت دار ممالک کی درآمدات اور برآمدات کا مجموعی حجم 19.1 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گیا ہے اور دو طرفہ سرمایہ کاری 380 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔زراعت ، توانائی ، ڈیجیٹل معیشت اور دیگر شعبوں میں بی آر آئی تعاون کے منصوبوں کی ایک بڑی تعداد پر عمل درآمد کیا گیا ہے ، جس سے صنعتی ڈھانچے کو اپ گریڈ کرنے اور مختلف ممالک میں انڈسٹریل چینز کو بہتر بنانے میں تقویت ملی ہے۔مثلاً مجموعی طور پر 79900 چین -یورپ ریلوے ایکسپریس ٹرینیں 25 یورپی ممالک میں 200 سے زیادہ شہروں تک پہنچ چکی ہیں ، جو عالمی سپلائی چین کو مستحکم کرنے کے لئے گولڈن چینل بن رہی ہیں ۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت چین نے بی آر آئی کے تحت تعاون پر 152 ممالک اور 32 بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ 200 سے زائد دستاویزات پر دستخط کیے ہیں جن میں سے 83 فیصد ان ممالک کا احاطہ کرتا ہے جن کے ساتھ چین نے سفارتی تعلقات قائم کیے ہیں۔
اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول میں دنیا کو ایک مشترکہ کوشش اور تعاون کی ضرورت ہے۔غربت کا خاتمہ ہو یا موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنا ۔یہ ایسے مسائل ہیں جن سے کوئی ایک ملک اکیلے نہیں نمٹ سکتا۔اس حوالے سے دنیا کی بڑی معیشتیں ،بڑے علاقے رکھنے والے ممالک اور زیادہ آبادی رکھنے والے ممالک سمیت ترقی یافتہ ممالک بھی انتہائی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں لیکن بی آر آئی جیسے بڑے منصوبوں سے ان مقاصد کی تکمیل تیز اور پائیدار ہو سکتی ہے لہذا یہ کہ سکتے ہیں کہ بی آر آئی کی کامیابی کسی ملک ،کسی خطے،یا کسی تنظیم کی نہیں بلکہ دنیا کی جیت ہوگی۔

