اسلام آباد (آفتاب بھٹی )پراپرٹی ماہر اسماعیل خان نے کہا ہے کہ رنگ روڈ کا فائدہ سیاستدانوںکو نہیں راولپنڈی کے عوام کو ہو اجہاں سے یہ رنگ روڈ گزر رہی ہے ان لوگوں کوفائدہ ہوا ہے،مثال کے طور پر 65 کلومیٹر کا جو رنگ روڈ ہے اس کے ارد گرد تمام موضہ جات میں زمینوں کی مالیت بڑھی ، اگر اس 65کلومیٹر پر نظر ڈالی جائے تو ہاؤسنگ سوسائٹی کی زمین 8 سے 10 فیصد بنتی ہے، باقی 90 فیصد فائدہ وہاں کے عوام کو ہوا ہے، کم از کم دس لاکھ روپے مالیت فی کنال اضافہ ہوا ہے۔ سب نیوز کو دئیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ چک بیلی سے لے کر فتح جنگ تک جو بھی علاقہ رنگ روڈ سے لگتا ہے اس کا اصل فائدہ وہاں کے عوام کوہوا ہے۔ ایک اور سوال کہ کیا رنگ روڈ کو سیاست کی نظر کیا جارہا ہے؟ کے جواب میں انہوں نے کہا میرے خیال سے نہ تو اس میں کوئی سیاستدان ملوث نکلے گا اور نہ ہی کوئی ہاؤسنگ سوسائٹی بلکہ اس کے پیچھے پی ٹی آئی کے اندر جو دھڑے ہیں وہ سیاست کررہے ہیں ، اگر دیکھا جائے تو یہ نون لیگ کا پروجیکٹ تھا اور اس میں عمران خن نے ایئرپورٹ لوپ کو ایڈ کیا ہے۔ میڈیا پر موجود جب انہوں نے اس کی اپروول دی اور 22 ارب جو کھانے کی بات ہے کسی نے ایک روپیہ بھی نہیں کھایا ۔چاہے نیب ‘ایف آئی اے ‘اور ایف بی آر’ اس کی تحقیقات کر لیں اس میں سے کچھ نہیں نکلنا دراصل عوام کا ایک سٹوری سے دوسری سٹوری کی طرف رخ موڑا گیا ہے جو پی ٹی آئی کے اندر ایک نئی جماعت جنم لے رہی ہے ۔ اس رپورٹ پر میڈیا نے کھل کر لکھا ہے۔ تحقیقاتی کمیٹی کے تین ممبران میں سے دو کے دستخط ہی موجود نہیں تھے پھر بھی اسے پبلش کیا گیا ۔رنگ روڈ اگر کینسل ہو گیا تو ملک کو کتنا بڑا نقصان ہوگااس سوال پر روزنامہ سب نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رنگ روڈ کینسل نہیں ہو سکتا اس کی وجہ یہ ہے کہ زمینوں کی اربوں کی ادائیگی ہو چکی ہے ۔صرف کنسٹرکشن کے لیے ٹینڈر باقی ہے سب کچھ ہو چکا ہے باقی اس پر کمشنر راولپنڈی بھی کہہ چکے ہیں یہ کینسل نہیں ہوگا ۔جی ٹی روڈ لاہور اور جی ٹی روڈ پشاور کو ملانے کا واحد راستہ رنگ روڈ ہی ہے ۔محترم وزیراعظم صاحب اگر یہ پراجیکٹ نہ بنا تو راولپنڈی کے عوام اگلے الیکشن میں آپ کی پارٹی کو کبھی ووٹ نہیں دیں گے۔ میری یہ درخواست ہے کہ اس پراجیکٹ کو اندرونی سیاست کی نظر نہ ہونے دیں تاکہ عوام سے کئے گئے وعدوں میں سے ایک وعدہ تو پورا ہو۔
رنگ روڈ کا فائدہ سیاستدانوں کو نہیں راولپنڈی کے عوام کو ہو ا ، اسماعیل خان ، نیب،ایف آئی اے اور ایف بی آر اس کی تحقیقات کر لیں اس میں سے کچھ نہیں نکلنا ، وزیراعظم صاحب پراجیکٹ کو اندرونی سیاست کی نظر نہ ہونے دیں تاکہ آپ کا ایک وعدہ تو پورا ہو، سب نیوز کو انٹرویو
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
