ہومتازہ تریناسرائیل اور حماس کے درمیان سیز فائر میں توسیع کی عالمی کوششیں ، آج مزید یرغمالیوں کی رہائی متوقع

اسرائیل اور حماس کے درمیان سیز فائر میں توسیع کی عالمی کوششیں ، آج مزید یرغمالیوں کی رہائی متوقع

غزہ/یروشلم /تل ابیب (سب نیوز )مغربی کنارے میں 4مختلف واقعات میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ میں 8فلسطینی شہید اور 17 زخمی ہوگئے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مغربی کنارے کے علاقے جنین میں اسرائیلی فوج بکتر بند گاڑیوں اور بلڈروز لے کر داخل ہوگئی اور سرچ آپریش کیا جس میں اسنائپرز کو عمارتوں کی چھتوں پر تعینات کیا گیا تھا۔اس آپریشن کے دوران اسرائیلی فوج کے اسنائپرز کی فائرنگ میں 5 فلسطینی نوجوان شہید اور 10 سے زائد زخمی ہوگئے جب کہ کئی گھروں کو مسمار کردیا گیا۔ درجن سے زائد خاندان کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہوگئے۔

اسرائیلی فوج کی جارحیت کا دوسرا واقعہ قباطیہ میں پیش آیا جہاں ایک 25 سالہ ڈاکٹر شامخ کمال کو فوجیوں نے گولیاں مارکر شہید کردیا جب کہ ان کے بھائی شدید زخمی ہوگئے۔اسی طرح البیرہ میں بھی اسرائیلی فوج نے فائرنگ کرکے 16 سالہ نوجوان کو شہید کردیا جب کہ 5 زخمی ہوگئے۔ جن میں سے ایک زخمی نے اسپتال میں دم توڑ دیا۔عینی شاہدین نے الجزیرہ کو بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں نے جنین گورنمنٹ اسپتال اور ابن سینا اسپتال کا محاصرہ کرلیا۔دوسری جانب مغربی کنارے میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف عسکری جدوجہد کرنے والی جنین بریگیڈ نے اعلان کیا کہ وہ اسرائیلی افواج کے خلاف سخت مزاحمت کررہے ہیں اور کئی محاذوں پر ان کو پسپا کردیا ہے۔

فلسطینی وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر سے اسرائیل حماس جنگ میں مغربی کنارے میں اب تک 230 سے زائد فلسطینی شہید اور 2 ہزار 950 زخمی ہو چکے ہیں جب کہ غزہ میں شہادتوں کی تعداد 14 ہزار سے تجاوز کرگئی۔دوسری طرف اسرائیل کی جانب سے 39 فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بعد حماس نے بھی 13 اسرائیلیوں اور 4 تھائی شہریوں کو ہلال احمر کے حوالے کردیا۔ عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی قید سے رہائی پانے والے فلسطینیوں میں 33 بچے اور 6 خواتین شامل ہیں جب کہ حماس کی جانب سے رہا کیے گئے یرغمالیوں میں 5 خواتین اور 8 بچے شامل ہیں۔حماس نے جن 17 یرغمالیوں کو رہا کیا ہے ان میں 13اسرائیلی جب کہ 4تھائی لینڈ کے شہری ہیں جنھیں ہلال احمر کے رضاکاروں نے مصر پہنچایا جہاں سے طبی معائنے کے بعد اسرائیل بھیج دیا گیا۔جنگ بندی معاہدے کے دوسرے روز قیدیوں کا تبادلہ قدرے تاخیر سے رات گئے ہوا۔ حماس نے اسرائیل پر جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام عائد کرتے ہوئے یرغمالیوں کی رہائی روک دی تھی۔بعد ازاں معاہدے کے ثالثی قطر نے ان رکاوٹوں کو ختم کرانے کی یقین دہانی کرائی جس کے بعد قیدیوں کے تبادلے کا عمل بحال ہوا۔

علاوہ ازیں قطری وزیر غزہ پہنچ گئیں۔قطر کی بین الاقوامی تعاون کی وزیر مملکت لولواہ راشد الخطر کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ انکلیو میں انسانی امداد کی ترسیل کی مقدار میں اضافہ ہوگا۔جنوبی غزہ کے دورے کے دوران الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کو بڑھانے کے لیے ہماری کوششیں کامیاب ہوں گی جس سے مزید امدادی سامان کی فراہمی یقینی ہو گی۔سفارتی راستے سمیت کئی آپشن ہیں اس مقصد کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں، اور جنگ بندی کو بڑھانے کی کوشش میں بات چیت کی جا رہی ہے۔

دوسری طرف غزہ پر اسرائیل کے وحشیانہ حملوں اور بربریت کے خلاف دنیا بھر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔برطانیہ کے شہر لندن میں فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے بڑا مظاہرہ کیا گیا، فلسطینیوں کے حق میں نکالی گئی ریلی میں ہزاروں افراد نے غزہ میں عارضی جنگ بندی کو مستقل کرنے کا مطالبہ کیا۔غزہ میں اسرائیلی جنگ کی حمایت کرنے پر آسٹریلوی میں نائب وزیراعظم کے دفتر کے باہر سینکڑوں مظاہرین نے احتجاج کرتے ہوئے دفتر کی دیواروں اور کھڑکیوں پر فلسطینی پرچم چسپاں کر دیے۔ادھر جاپان کے شہر ٹوکیو میں بھی مظاہرین نے غزہ میں نسل کشی روکنے اور فلسطین آزاد کرنے کا مطالبہ کیا۔ یمن میں فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ریلی نکالی گئی جس دوران فلسطیی پرچم لہراتے ہزاروں افراد نے فلسطینیوں کی حمایت میں نعرے لگائے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔