“انٹرویو آفتاب
بھٹی”
اوورسیز پاکستانی جو کہ دنیا کے مختلف ممالک میں محنت مزدوری کے لیے پھیلے ہوئے ہیں۔ جن کا ملکی معیشت میں اہم کردار ہوتا ہے۔ اپنے ملک،ماں،بہن،بھائ اور بیوی بچوں سے دور رہ کر زرمبادلہ پاکستان بھیجتے ہیں۔ ان کو پاکستان میں بہت سے مسائل درپیش ہیں۔ ملک اسرار حسین جو کہ ایک اورسیز پاکستانی ہیں ۔ روزنامہ سب نیوز کو انٹرویو کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھاکہ اوور سیز کو مسائل تو ہیں۔ مگر پاکستان میں بسنے والوں سے کم ہی ہیں ۔ اوورسیز کا سب سے بڑا مسئلہ تب شروع ہوتا ہے جب وہ پاکستانی ائیرپورٹ پر اترتے ہیں تو ان کے لوکل مسائل شروع ہو جاتے ہیں۔ ان کی جیبوں میں ہاتھ ڈال دیئے جاتے ہیں۔ کئی بار تو ایسا بھی ہوا کہ ان کے پیچھے ڈکیٹ لگ جاتے ہیں۔ اور ان کو لوٹ لیا جاتا ہے۔
میں آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں جو کہ ایک نئے شادی شدہ اوورسیز پاکستانی جوڑے کا ہے۔ شادی کے بعد وہ پاکستان کے شہر اسلام آباد میں گھومنے پھرنے آئے۔ تو تھانہ مارگلہ کی پولیس نے ان کو پکڑ لیا۔ جب پولیس سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس نکاح نامہ نہیں ہے۔ بڑی مشکل سے ان کی جان چھڑوائی اور وہ واپس چلے گئے۔ جاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آج کے بعد ہم پاکستان نہیں آئیں گے۔ کتنی شرم کی بات ہے۔
وہاں برطانیہ میں ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہے تمام حقوق گھر بیٹھے ملتے ہیں۔ نہ آٹا مہنگا ہے ، نہ گھی، کی کوئی کمی اور نہ دودھ میں ملاوٹ ہوتی ہے۔ بیماری کی صورت میں میڈیکل فری ہوتا ہے۔
اوورسیز پاکستانی اپنی دھرتی ماں سے بہت پیار کرتے ہیں اور اسی کے لیے فکر مند ہیں۔ مگر افسوس دھرتی ماں کو ملنے کے لیے بھی ان کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ملکی ترقی میں اوورسیز کا کردار کیا ہے؟ کہ جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اوورسیز طبقہ محنت مزدوری کرکے زرمبادلہ پاکستان بھیجتا ہے۔ وہ کماتے ہیں ڈالر، پاؤنڈ، یورو، اور ریال۔
میرا ذاتی خیال ہے آج تک جتنا زرمبادلہ بھیجا گیا ہے۔ اگر اس کو بے رحمی کے ساتھ لوٹا نہ جاتا تو آج پاکستان کوقرضےکی ضرورت نہ پڑتی۔
سب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب ذوالفقار علی بھٹو شہید نے ایوب کیبنٹ کو چھوڑ کر یا بیماری کا بہانہ تھا جو بھی تھا یو کے آئے۔ ان کے ساتھ کوثرنیازی ، حفیظ پیرزادہ، اور احمد رضا قصوری وہ اب بھی حیات ہیں ان کو پتہ ہوگا براڈ فور آئے۔
ایف ڈی فاروقی جو کہ برطانیہ کے ایک بزنس مین ہیں۔ انہوں نے کامن ویلتھ ریسٹورینٹ کی اوپر والی منزل پہ بھٹو صاحب کی دعوت کی۔ مجھے بھی ایک دوست ساتھ لے گیا۔ اس وقت میں چوبیس سال کا ایک نوجوان تھا۔ بھٹو صاحب مجھ سے مخاطب ہوئے اور کہا نوجوان تم کیوں خاموش ہو۔ میں گھبرا گیا۔ میں نے کہا سر “چھوٹا منہ بڑی بات” بھٹو صاحب اٹھے اور انہوں نے مجھے سینے سے لگا لیا۔ اور کہا کہ ہمیں نوجوانوں کی ضرورت ہے۔ پیپلزپارٹی کا نام اسی ریسٹورنٹ میں تجویز کیا گیا۔ چونکہ پارٹی کی بنیاد نیک نیتی پر مبنی تھی۔ اور سوچیں بھی بڑی صاف ستھری۔ پھیلتی چلی گئی۔ یہ وہ وقت تھا جب پورے برطانیہ میں کسی بھی اوورسیز پاکستانی سے سیاسی سوچ کے بارے میں پوچھا جاتا تو سب کا ایک ہی جواب کہ ذوالفقار علی بھٹو ہمارا لیڈر ہے۔ افسوس کہ ان کا عدالتی قتل کر دیا گیا۔ اس کے بعد نصرت بھٹو اور بے نظیر نے پارٹی کو سنبھالا ۔ نصرت بھٹو بہت اچھی خاتون تھیں۔ بے نظیر ایک عظیم رہنما۔ انہوں نے پاکستان کے لیے بہت کچھ کیا مگر افسوس ان کو بھی دہشتگردی کی نظر کر دیا گیا۔
اور وہ شہید “جمہوریت کی دیوی” بن کر ابھری۔
زرداری صاحب کے بارے میں اتنا نہیں جانتا ۔لوگ تو باتیں کرتے ہیں “باتیں ہیں باتوں کا کیا” میرمرتضی، عباد شاہ، اور میں بہت اچھے دوست تھے۔ میر صاحب سے میرا تعلق بھائیوں جیسا تھا۔ ہم ایک ہی بستر پہ اکٹھے سو جاتے تھے۔ جب میر صاحب کو ان کی بہن کی حکومت میں سرعام گولیاں مار کر شہید کر دیا گیا۔ بہن کے وزیراعظم ہوتے ہوئے بھی اگر قاتل نہ پکڑے جائیں تو پھر عدل پہ سوال تو اٹھتا ہے۔ اس کے بعد پاکستانی سیاست سے دل اٹھ گیا۔
عمران خان سے بھی شاہ چاٹ ہاؤس میں ایک ملاقات ہے۔ جس دور کی میں بات کر رہا ہوں اس وقت خان ایک شرمیلہ اور زیر لب مسکرا نے والانوجوان تھا۔ آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات بھی نہیں کر پاتا تھا۔ آج اس کی پاپولیرٹی دیکھ کر میں حیران بھی ہوں پریشان بھی۔ پھر میں سوچتا ہوں اللہ تعالی نے اس کو بھیجا ہوگا۔ جب قومیں بگڑتی ہیں ۔ اس وقت پاکستانی قوم بگاڑ کی بلندیوں پر ہے۔
اس کا ذمہ دار کون ہے؟ کہ جواب میں ان کا کہنا تھا کہ میں 55 سال سے برطانیہ میں رہ رہا ہوں ۔ جسے جمہوریت کی ماں کہا جاتا ہے ۔
جس ملک کے اندر زیادہ تر فوجی حکومتیں رہی ہوں جس کو مارشل لاء کہتے ہیں۔ جس میں نہ تو کوئی جمہوری بات ہو سکتی ہے۔ نہ ہی اپنے حق کے لیے آواز بلند کی جاسکتی ہے۔ مارشل لا کے دور میں پیٹھ پر ڈنڈے اور کوڑے ہی برستے ہیں۔ جہاں جمہوریت کے نام پر سیاسی لوگ فار سیل ہوں اس معاشرے میں ذمہ دار آپ کس کو ٹھہرائیں گے۔ پہلے ایوب، پھر یحییٰ، ضیاء ،اور مشرف۔ زبانوں کو کھلنے کی اجازت ہی نہیں ملی۔ اگرآپ کسی پودے کو پانی نہیں دیں گے تو پھر کہاں سے پھل کھائیں گے۔
پاکستان روزانہ کی بنیاد پر تنزلی کی طرف جا رہا ہے۔ جب قومیں غریب ہوتی ہیں۔ تو فاشسٹ ،جرائم پیشہ، ڈاکو اور قاتل بن جاتی ہیں۔ تو پھر ملکی املاک جلائی اور گرائی جاتی ہیں۔ پاکستان میں سیاست نہیں ہو رہی بلکہ شیاخت ہو رہی ہے۔ ہمارے سیاست دانوں کو سیاست خارجہ محاذ پر کرنی چاہیے نہ کہ داخلی محاذ پر۔ شاہ محمود قریشی گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا ہے۔ سیاستدان وہ ہوتے ہیں جو عوام کے لئے سیاست کرتے ہیں نہ کہ عوام سے۔
نوجوانوں کے کردار کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ 1964 میں ۔میں21 سال کا نوجوان تھا۔ برطانیہ گیا کام کے ساتھ ساتھ گریجویشن کی۔ برطانیہ گورنمنٹ کے ساتھ کافی عرصہ کام کیا۔ آج کے پاکستانی نوجوان کو میں دیکھ رہا ہوں کہ عمران خان نے اس کو بیدارتو کر دیا ہے۔ مگر ابھی بھی نوجوان کو حق عدل اور جمہوریت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ تمام نوجوانوں کو میرا یہی پیغام ہے کہ وہ جمہوریت کو سمجھیں۔ اور حق لینے کے لیے قانون اور امن کا راستہ اختیار کریں۔ جلاو گھراؤ کرنے سے دنیا میں غلط پیغام جاتا ہے۔ اور پاکستان کی ساکھ خراب ہوتی ہے۔ حق دینے والوں کو بھی چاہیے کہ کچھ شرم کریں اور ہوش کے ناخن لیں۔
آخر میں انہوں نے سب نیوز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا سب نیوز کو چاہیے کہ وہ عدل و انصاف کی تبلیغ کرے اور قوم کو سدھارنے میں اپنا کردار ادا کرتا رہے۔
آج کے نوجوان کوجمہوریت سمجھنے کی ضرورت ہے، اوورسیز ملک اسرارحسین
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
