اسلام آباد،قومی احتساب بیوروکے چئیرمین جناب جسٹس جاوید اقبال کی زیر صدارت نیب کا اجلاس نیب ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں نیب کے تمام علاقائی بیورو ز میں غیر قانونی ہائو سنگ /کوآپریٹوسوسائٹیوں سے متعلق جاری نیب کی اب تک کی تحقیقات کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ نیب کے علاقائی بیورو ز میں غیر قانونی ہائو سنگ /کوآپریٹوسوسائٹیوں سے متعلق تحقیقات کے نتیجہ میں متاثرین کو اربوں روپے کی رقوم نہ صرف واپس کی جا چکی ہیں جس پر متاثرین نے غیر قانونی ہائو سنگ کوآپریٹو سوسائٹیوں سے ان کی لوٹی گئی رقوم کی واپسی پر چئیرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کاشکریہ ادا کیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ بعض ہا ئوسنگ /کوآپریٹوسوسائٹیاں متعلقہ ریگولیٹرز سے لے آئوٹ پلان اور این او سی کی منظوری اور مطلوبہ زمین نہ ہونے کے بغیر نہ صرف پر کشش تشہیری مہم کے ذریعے عوام الناس کو مبینہ طور پردھوکہ دہی کے ذریعے لوٹنے اور جعلی فائلز بیچنے میں مصروف ہیں جو کہ ہائو سنگ سوسائٹیز کے قوانین کی نہ صرف صریحا خلاف ورزی ہے بلکہ متعلقہ شہروں کے ریگو لیٹرز کی مبینہ خاموشی اور قانون کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال نہ کرنے اورفرائض سے غفلت کے زمرے میں آتی ہیں۔چئیرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے نیب کے تمام ڈی جیز کو ہدایت کی کہ غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹیز/کو آپریٹو سوسائٹیز کے خلاف نیب میں جاری تحقیقات مقررہ وقت کے اندر مکمل کی جائیں تاکہ متاثرین کو ان کی عمر بھر کی لوٹی گئی رقوم بر وقت واپس کی جاسکیں۔مزید بر آں کسی بھی غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹی/کو آپریٹو سوسائٹی کے خلاف تحقیقات شروع کرنے سے پہلے آئین اور قانون کے تما م تقاضوں کو مد نظر رکھا جائے۔ نیب عوام کو ان کے بہترین مفاد میں آگاہ کرتا ہے کہ جب تک کسی ہائوسنگ سوسائٹی/کو آپریٹو سوسائٹی نے قانونی طور پر متعلقہ ریگولیٹر سے منظوری حاصل نہ کی ہو اور اس کے پاس مطلوبہ زمین اور قانونی طور پر تما م کاغذات موجود نہ ہوں اس وقت تک اپنی سرمایہ کاری اس جعلی ہائوسنگ سوسائٹی/کو آپریٹو سوسائٹی میں نہ کریں کیونکہ نیب کوہا ئوسنگ /کوآپریٹو سوسائٹیوں کے بارے میں ہزاروں کی تعداد میں شکایات موصول ہو رہی ہیں۔جس کی وجہ سے نیب نے عوام کو متنبہ کرنا ضروری سمجھا ہے۔
