اسلام آباد: قومی اسمبلی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے خلاف قرارداد منظور کرلی گئی۔
بلوچستان سے رکن قومی اسمبلی خالد مگسی نے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کا فیصلہ مسترد کرنیکی قرارداد ایوان میں پیش کی گئی جو کہ منظور کرلی گئی۔
قرارداد میں تین رکنی بینچ کے بجائے فل کورٹ میں کیس کی سماعت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
قرار داد میں کہا گیا ہے کہ ایوان سیاسی معاملات میں بے جاعدالتی مداخلت پر اظہار تشویش کرتا ہے، حالیہ اقلیتی فیصلہ ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کر رہا ہے، وفاقی اکائیوں میں تقسیم کی راہ ہموار کردی گئی ہے۔
قرار داد میں کہا گیا ہے کہ ایوان سیاسی اور معاشی استحکام کے لیے ایک ہی وقت پر عام انتخابات کو مسائل کا حل سمجھتا ہے، ایوان تین رکنی بینچ کا اقلیتی فیصلہ مسترد کرتا ہے ، ایوان دستور کے آرٹیکل 63 ایکی غلط تشریح اور اسے عدالت عظمی کے فیصلے کے ذریعے ازسرنو تحریر کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کرتا ہے۔
قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ عدالت عظمی کا فل کورٹ اس پر نظر ثانی کرے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل وفاقی کابینہ نے بھی سپریم کورٹ کے الیکشن سے متعلق فیصلے کو مسترد کر دیا تھا۔
وفاقی کابینہ نے سپریم کورٹ کے الیکشن سے متعلق فیصلے کو پارلیمنٹ کی قرارداد سے متصادم قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کیا تھا۔

