ہومپاکستانپنجاب اسمبلی کا ہنگامے سے بھرپور اجلاس منگل تک ملتوی

پنجاب اسمبلی کا ہنگامے سے بھرپور اجلاس منگل تک ملتوی

پنجاب اسمبلی کا شور شرابے اور ہنگامے سے بھرپور اجلاس کل (منگل) تک ملتوی کردیا گیا۔ اپوزیشن نے وزیراعلیٰ پرویز الہٰی کی جانب سے اعتماد کا ووٹ نہ لئے جانے پر شور شرابہ کیا، حکومت نے 21 بل منظور کرلئے۔

پنجاب اسمبلی کا اجلاس 2 گھنٹے سے زائد کی تاخیر سے شروع ہوا، اجلاس میں وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کی جانب سے اعتماد کا ووٹ نہ لئے جانے پر اپوزیشن اور حکومتی ارکان نے ایک دوسرے کیخلاف خوب نعرے بازی اور شور شرابہ کیا۔

حکومتی ارکان نے رانا ثناء اللہ اور عطاء تارڑ کے خلاف نعرے بازی کی جبکہ اپوزیشن اراکین نے اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ کرلیا اور ایجنڈے کی کاپیاں حکومتی ارکان کی طرف پھینک دیں۔

اپوزیشن کے شور شرابے میں حکومتی ارکان نے کئی بل منظور کرالیے، ایوان نے گھریلو ملازمین پنجاب بل 2021ء، پبلک ڈیفنڈر سروس پنجاب بل 2023ء، فوڈ اتھارٹی ترمیمی بل، تنازع کے تصفیے کے متبادل حل کا ترمیمی بل 2023ء اور ناپسندیدہ کوآپریٹو سوسائٹی پنجاب ترمیمی اور تنسیخ بل 2023ء کثرت رائے سے منظور کرلئے۔

پنجاب اسمبلی نے پبلک سیکٹر یونیورسٹیز ترمیمی بل 2022ء بھی ایوان میں دوبارہ منظور کرلیا جبکہ یہ ترمیمی بل 2022ء گورنر پنجاب نے واپس بھجوادیا تھا۔

صوبائی اسمبلی نے پنجاب ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی ترمیمی بل 2019ء، سوشل سیکیورٹی ترمیمی بل 2021ء بھی کثرت رائے سے منظوری کرلئے۔

بلوں کی منظوری کے دوران اپوزیشن اراکین نے ایوان میں ’’اعتماد کا ووٹ لو‘‘ کے نعرے لگائے۔ راجہ بشارت بولے جب بھی عدالت حکم دے گی تو اکثریت ثابت کریں گے۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس منگل 10 جنوری دوپہر 2 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔