پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل (پی اے آر سی)میں تیل کے بیجوں کی فصلوں پر ورائٹی ایویلیوایشن کمیٹی کا اجلاس دو سیشن میں منعقد کیا گیا۔جس میں کینولا،سرسوں اور سورج مکھی کی امیدوار اقسام/ہائبرڈز کے لیے 30 سے زائد تجاویز جانچ کے لیے پیش کی گئیں
اجلاس کے سیشن کے دوران، مقامی اور درآمدی اوریجن کی 29 ہائبرڈز / اقسام کو ان کی ممکنہ ماحولیات کے مطابق تجارتی کاشت کے لیے تجویز کیا گیا۔ ان میں سے 04 ہائبرڈز/ اقسام، کینولہ، تل کے بیج، 17 سرسوں کی قسم اور 08 ہائبرڈ سورج مکھی کی ہیں۔ اجلاس میں وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے سینئر ٹیکنکل نمائندے، صوبائی سیڈ کونسل کے سربراہان، صوبائی ہیڈ آف ایگریکلچر اینڈ الائیڈ ریسرچ، ڈی جی این اے آر سی اور پرائیویٹ سیڈ سیکٹر کے نمائندوں نے شرکت کی۔پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر غلام محمد علی نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی ہدایات اورتصور کے مطابق کھانے کے تیل کی برآمد کے متبادل تیل دار فصلوں پر کام تیزی سے جاری ہے اورکامیاب تجربات سے پیدوار میں ریکارڈ اضافہ ہوگا۔
اپنے ابتدائی کلمات میں چیئرمین پی اے آر سی نے ورائٹی ایویلیویشن کمیٹی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ یہ فورم مختلف قسم کے ہائبرڈز کی سفارشات کے ذریعے ملک میں اعلی پیداواراور ورائٹی کی دستیابی کو یقینی بناتا ہے۔انہوں نے پاکستان کی معیشت میں تیل دار فصلوں کے بیجوں کی اہمیت اور بیجوں کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے مختلف تیل دار فصلوں کی ملکی پیداوار بڑھانے کے لیے کی جانے والی کاوشوں پر روشنی ڈالی۔ اس حوالے سے ملک میں نئی اقسام اور ہائبرڈز بیج متعارف کرانے کیلیے پی اے آر سی اوراین اے آر ایس کی کوششوں کو سراہااور کہا کہ تیل دار بیج سمیت مختلف انواع کے بیجوں کی مقامی سطح پر تیاری سے حکومت کو سالانہ بنیادوں پر بیچوں کی درآمدات پر اٹھنے والے اخراجات کی مد میں بچت ہوگی۔ چیئرمین پی اے آر سی نے متعلقہ ماہرین و سائنسدانوں پر زور دیا کہ وہ مقامی طور پر بیجوں کی پیداوار، خاص طور پر تیل دار فصلوں کے بیجوں اور ہائبرڈز کی پیداوار پر توجہ مرکوز کریں۔ مزید انہوں نے سرکاری اور نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کی جو پاکستان میں بیج کے شعبے کی ترقی کے لیے پی اے آر سی کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔پی اے آر سی کے ممبر پلانٹ سائنسز ڈویژن ڈاکٹر امتیاز حسین نے کسانوں کو تیل دار فصلوں کے بیجوں کے لئے ہائبرڈز اقسام فراہم کرنے میں سرکاری اور نجی شعبے کے کردار کو سراہا جو پاکستان میں بیجوں کی پیدواری صلاحیت کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہورہے ہیں۔
کینولا،سرسوں اور سورج مکھی کی 29 اقسام تجارتی کاشت کیلئے منظور
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
