واشنگٹن-امریکہ میں پاکستانی سفیر مسعود خان نے عالمی برادری کو ماحولیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات سے خبردار کیا ہے جس کی وجہ سے دنیا بھر کی اقوام کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ مسعود خان نے کہا کہ پاکستان میں حالیہ سیلاب ماحولیاتی تبدیلی کی تباہ کاریوں کا مظہر ہیں۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ماحولیاتی تبدیلی کا عمل مزید تیز ہوگا خواہ وہ پاکستان میں ہو، جنوبی ایشیا یا دنیا کے دیگر ممالک ہو۔
سفیر پاکستان نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی سے آج پاکستان متاثر ہو رہا ہے۔ کل کوئی اور ملک متاثر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ بین الاقوامی میڈیا مفصل طور پر متاثرہ علاقوں میں دل دہلا دینے والے مناظر دکھا رہا ہے لیکن یہ ہونے والی تباہ کاری کا محض چھوٹا سا حصہ ہے۔ مسعود خان نے کہا کہ جہاں ماحول کو آلودہ کرنے والی گیسوں کے اخراج میں کمی لانا اجتماعی ذمہ داری ہے وہاں بین الاقوامی برادری کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ وہ ممالک جن کا اس عمل میں حصہ انتہائی کم یا نہ ہونے کے برابر ہے لیکن جو ماحولیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں ان کا ازالہ کرنے کے لئے کیا طریقہ کار وضع کیا جائے۔ سفیر پاکستان نے کہا کہ ہمیں فوری طور پر اپنی حکمت عملی تخفیف اور موافقت سے تبدیل کرکے تیاری اور اصل حالت میں لوٹنے کی صلاحیت پیدا کرنے کی طرف موڑنی ہوگی۔ مسعود خان واشنگٹن کے معروف اور معتبر صحافتی ادارے نیشنل پریس کلب میں امریکی اور بین الاقوامی صحافیوں کو سیلاب کی تباہ کاریوں کے حوالے سے بریف کر رہے تھے۔ سفیر پاکستان نے ملک کے ایک تہائی حصے کو ڈبونے والے سیلاب کی تباہ کاریوں کی ہولناک تفصیلات سے حاضرین کو آگاہ کیا
۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک 1400 قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ تیرہ ہزار سے زائد لوگ زخمی ہو چکے ہیں، 66 لاکھ لوگوں کو امداد کی فوری ضرورت ہے، آٹھ لاکھ مویشی سیلاب کی نذر ہو چکے ہیں، پچپن لاکھ ایکٹر پر کھڑی فصلیں جن میں چاول، گندم، مکئی اور گنا شامل ہیں تباہ ہو چکی ہیں، سات ہزار کلومیٹر سڑکیں بہہ گئی ہیں اور 246 پل تباہ ہوئے ہیں۔ زیر آب آنے والے علاقے کے حوالے سے سفیر پاکستان نے امریکی ریاست وامنگ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وامنگ ریاست کے لگ بھگ 95000 مربع میل رقبہ متاثر ہوا ہے اور امریکی ریاست کیلیفورنیا کی آبادی جتنی پاکستانی عوام متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپیئن اسپیس ایجنسی نے دریائے سندھ پر بننے والی 100 کلومیٹر لمبی جھیل کی تصاویر جا ری کی ہیں۔ اس جھیل کے بننے سے ایک بڑی تباہ کاری میں یہ ایک اور تباہ کاری کی صورت پیدا ہوگئی ہے۔ سفیر پاکستان نے کہا کہ پاکستان جیسے زرعی ملک میں 55 لاکھ ایکٹر کی زرعی زمین متاثر ہوئی ہے جس سے فوڈ سیکیورٹی کے سنگین خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔ ورلڈ فوڈ پروگرام اور بین الاقوامی تنظیموں کو آگے آنا چاہیے تاکہ پاکستانی عوام کی مدد کی جا سکے اور ہم فوڈ سیکیورٹی کو برقرار رکھ سکیں۔ مسعود خان نے مشکل وقت میں مدد دینے پر امریکی حکومت، گانگرس، امریکی مخیر اور فلاحی اداروں اور خصوصا پاک امریکن کمیونٹی کا شکریہ ادا کیا۔
پاکستان میں مصیبت زدرہ افراد کے ریلیف اور ریسکیو کے لئے زیادہ سے زیادہ عطیات کی اپیل کو دہراتے ہوئے سفیر پاکستان نے کہا ہمیں ان متاثرہ افراد کی بحالی، ان کی آباد کاری اور تعمیر نو کے عمل میں بین الاقوامی اور مقامی وسائل کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت جاری ریلیف اور ریسکیو کے عمل کے بعد متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔ ایک سوال کے جواب میں سفیر پاکستان نے کہا کہ پاکستان کے جوہری اثاثے مکمل طور پر محفوظ ہیں اور انکو کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں۔
