واشنگٹن-پاکستانی سفیر مسعود خان نے سیلاب متاثرین کیلئے اضافی مالی امداد کی فراہمی پر یو ایس ایڈ کا شکریہ کرتے ہوئے کہاہے کہ اس اضافی امداد کے اعلان کے ساتھ امریکی امداد کا کل حجم 51.1 ملین ڈالر تک پہنچ گیاہے سمانتھا پاور کے پاکستان کے دورے اور اضافی امداد کے اعلان پر سفیر پاکستان نے کہا کہ اس مشکل گھڑی میں آپ کی پاکستان میں موجودگی اور سیلاب زدگان کے لیے امداد بڑھانے پر پاکستانی عوام آپ کے شکرگزارہیںسفیر پاکستان نے کہا کہ سمانتھا پاور ایک متحرک لیڈر ہیں جنہوں نے ہمیشہ انسانی ہمدردی کے مقاصد کی علمبردار رہی ہیں۔ یو ایس ایڈ کی ایڈمنسٹریٹر سمانتھاپاور اس وقت پاکستان میں سیلاب کی حالیہ صورتحال کا جائزہ لینے، متاثرہ افراد سے ملنے اور مشکل وقت میں گھرے پاکستانی عوام کی مشکلات کو دور کرنے کیلئے امریکی امداد کو بڑھانے کے حوالے سے ممکنات پر غور کرنے پاکستان کا دورہ کر رہی ہیں
۔پاکستان میں سیلابی آفت اور اسکی شدت کو دیکھنے کے بعد اپنے تجربات کا اظہار کرتے ہوئیسمانتھا پاور نے ٹویٹ کیا کہ انہوں نے کبھی سطح زمین پر اتنا سیلابی پانی نہیں دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ گلیشیئرز کے پگھلنے اور مون سون کی بارشوں کی وجہ سے پاکستان کا ایک تہائی حصہ زیر آب ہیانہوں نے کہا یو ایس ایڈ کی ٹیم متاثرہ افراد کو خوراک، پناہ گاہ اور ادویات کی فراہمی کے حوالے سے حکومتی کاوشوں میں معاونت فراہم کر رہی ہیایک اور ٹویٹ میں سمانتھا پاور نے کہا کہ پاکستان میں سیلاب کی شدت اور تباہی کو بیان کرنا بہت مشکل ہے۔اعدادوشمار کے مطابق سیلاب سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 33 ملین جبکہ 1300 سے زائد ہلاکتیں ہوئی ہیں جن میں ایک تہائی حصہ بچوں پر مشتمل ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ 750 ہزار مویشی ہلاک ہوئے ہیں ، 17 لاکھ گھر تباہ ہوئے ہیں اور17,500سکولوں کو بھی نقصان پہنچا ہے جبکہ لاتعداد گاں زیر آب آ گئے ہیںسمانتھا پاورکے ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے مسعود خان نے پاکستان میں جاری حالیہ سیلاب سے متعلق امدادی کارروائیوں میں بے حد تعاون اور انکی ذاتی قیادت پر سمانتھا پاورکا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہم آپ کے اور یو ایس ایڈ کے انتہائی شکر گزار ہیںسفیر پاکستان مسعود خان نے 26 اگست 2022 کو سمانتھا پاور کو لکھے گئے خط میں انہیں سیلاب کی آفت کے پیمانے اور اس سے وسیع پیمانے پر ہونے والی تباہی سے آگاہ کیا تھاسفیر پاکستان نے کہا کہ یو ایس ایڈ روایتی طور پر سماجی ترقی اور تعلیم سمیت متعدد شعبوں میں مدد فراہم کر کے پاکستان امریکہ تعلقات کو فروغ دینے میں بہترین کردار ادا کر تارہا ہیسفیر پاکستان نے 2005 کے زلزلے اور 2010 کے سیلاب کے دوران یو ایس ایڈ کی طرف سے فراہم کی گئی امداد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی عوام آپ کے تاریخی امدادی اقدام کو یاد رکھے ہوئے ہیںسفیر پاکستان نے کہا کہ اپنے لوگوں کی تکالیف کو کم کرنے اورسیلابی آفت سے نمٹنے کی کوشش میں ہم آپ کی حمایت پر بھروسہ کرتے رہیں گی
سفیر پاکستان کی بات کا جواب دیتے ہوئے سمانتھا پاور نے کہا کہ امریکہ اس مشکل گھڑی میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہیانہوں نے پاکستان میں ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پیش آنے والے سیلاب سے پیدا شدہ صورتحال سے آگاہ کرنے پر پاکستانی سفیر مسعود خان کا شکریہ ادا کیااعلان کردہ امریکی امداد کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ فنڈنگ متاثرین کی جلد بحالی، خطرے میں کمی اور اپنی اصل حالت پر واپسی کی صلاحیت پیدا کرنے میں اضافہ کرے گی جس سے حکومت پاکستان اور مقامی کمیونٹیز کو مستقبل کی آفات کے اثرات کو کم کرنے میں مدد ملے گیسمانتھا پاور نے یہ بھی کہا کہ یو ایس ایڈ اپنے سٹاف، شراکت داروں اور پاکستانی حکام کے ساتھ مل کر صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے، انہوں نے مزید کہا تھا کہ وہ پاکستان کے دورے کے دوران یو ایس ایڈ کی ٹیم کے کام کو خود دیکھیں گی ،متاثرہ لوگوں اور کمیونٹیز سے براہ راست ملیں گی اور اس امر کا جائزہ لیں گی کہ امریکہ کیسے آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں اپنی معاونت میں مزید بہتری لا سکتا ہے سمانتھا پاور نے سفیر پاکستان کو مشکل وقت میں امریکہ کی حمایت جاری رکھنے کا یقین بھی دلایاسمانتھا پاور نے اپنے خط میں کہا کہ انسانی جانوں کو بچانے، مصائب کو کم کرنے اور پائیدار بحالی کو محفوظ بنانے کے لیے یوا یس ایڈ حکومت پاکستان کی مدد جاری رکھے گادورہ پاکستان کے دوران سمانتھا پاور نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گٹیرس سے ملاقات کی اور پاکستان کا دورہ کرنے اور مثبت عالمی ریسپانس کو یقینی بنانے ان کا شکریہ ادا کیاسمانتھا پاور نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ سیلاب سے پیداشدہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے شہریوں، مخیر حضرات، نجی شعبے اور حکومتوں کو اپنی کاروائیوں کو تیز کرنا ہوگاسمانتھا پاور نے پاکستانی حکام اور یو ایس ایڈ ٹیم کے ساتھ کام کرنے والے امریکی فوج کے ارکان سے بھی ملاقات کیسمانتھا پاور نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ انہوں نے سیلاب سے متاثرہ خاندانوں سے بھی ملاقات کی اور دکھ اور ہمدردی کااظہار کیا۔
