اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آج پاکستان کی حقیقی آزادی کی تحریک میں بھی وکلاءاہم کردار ادا کر رہے ہیں، اگر میں نے سازش کے خلاف سٹینڈ نہ لیا تو کوئی آزاد خارجہ پالیسی نہیں بنا سکے گا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ بار کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ پاکستان کی آزادی کی تحریک میں وکلاءکا بہت اہم کردار تھا اور آج پاکستان کی حقیقی آزادی کی تحریک میں بھی وکلاءاہم کردار ادا کر رہے ہیں، ہم نے جب حکومت سنبھالی تو پاکستان دیوالیہ ہونے کے قریب تھا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی سفیر کو کہا گیا عمران خان روس کیوں گیا؟ امریکہ ناراض ہے ، سفیر کو کہا گیا کہ عمران خان کو نہ ہٹایا تو پاکستان کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا ، امریکی سفارتخانے میں ممبران کی ملاقاتیں ہوتی رہیں جبکہ ہمارے اتحادیوں میں بہت سے لوگ لوٹے بن گئے، امریکی سفارتخانے کا کیا کام ہے کہ ہمارے ارکان سے ملاقاتیں کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ 7 مارچ کو تحریک عدم اعتماد پیش نہیں ہوئی تھی اور پھر سب نے دیکھا کہ سندھ ہاؤس میں منڈی لگی اور ہمارے ارکان اسمبلی کو 30,30 کروڑ کی پیشکش کی گئی، سندھ ہاؤس میں جو بولیاں لگیں اس کے بعد ہماری حکومت گئی، ہمارے ارکان نے لوٹا ہی بننا تھا تو پہلے چلے جاتے، ابھی کیوں گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں ایسی مثال نہیں کہ آپ کا اتحادی ہی آپ پر ڈرون حملے کرے، میں نے اگر سازش کے خلاف سٹینڈ نہ لیا تو پھر کوئی آزاد خارجہ پالیسی نہیں بنا سکے گا اور جو بھی حکومت آئے گی اس کا وزیراعظم امریکی دھمکی کے سامنے جھک جائے گا۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ہم نے جب حکومت سنبھالی تو پاکستان دیوالیہ ہونے کے قریب تھا جبکہ ایک سال بعد کورونا آ گیا لیکن ہم نے جو اقدامات اٹھائے اور پالیسیز بنائیں انہیں دنیا نے تسلیم کیا، ہمارے دور میں تاریخ میں سب سے زیادہ ڈالر پاکستان میں آئے اور زراعت نے تیزی سے ترقی کی۔
