آبنائے ہرمز میں امریکا اور ایران کے درمیان جھڑپوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ سرمایہ کاروں اور توانائی مارکیٹس میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی اور ایرانی فورسز کے درمیان حالیہ کشیدگی نے جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا، جس کے بعد عالمی تیل مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ شروع ہوگیا۔
برینٹ کروڈ، جو عالمی معیار کا خام تیل سمجھا جاتا ہے، جمعرات کے روز ٹریڈنگ کے دوران تقریباً 7.5 فیصد تک بڑھ گیا۔ بعد ازاں ایشیائی مارکیٹس کھلنے پر قیمتوں میں کچھ کمی دیکھی گئی، تاہم برینٹ کروڈ کی قیمت اب بھی 101.12 ڈالر فی بیرل پر برقرار ہے۔
رپورٹس کے مطابق برینٹ کروڈ کی قیمت دن کے دوران 103.70 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران جنگ اور آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی تیل سپلائی متاثر ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی خام تیل کی قیمت میں بھی تیزی ریکارڈ کی گئی۔ امریکی خام تیل تقریباً 3 فیصد اضافے کے بعد 97.26 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔
توانائی ماہرین کے مطابق موجودہ بحران کے باعث عالمی سطح پر روزانہ تقریباً 14.5 ملین بیرل تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جس نے مارکیٹ میں شدید غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی معیشت، توانائی سپلائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بڑے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
