راولپنڈی(سب نیوز)حکومتی دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے،بجلی لوڈشیڈنگ نے عوام کو ذہنی مریض بنا دیا۔راولپنڈی کے مختلف علاقوں میں بجلی کی لوشیڈنگ نے عوام کو ذہنی مریض بنا دیا ،دن کو چین ہے نہ رات کو سکون ،بچے ،بوڑھے ،خواتین ،نوجوان سب نیند پوری نہ ہونے کے باعث ڈپریشن کا شکار ہو گئے ۔
راولپنڈی کے مختلف علاقوں میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ اور بار بار ٹرپنگ بالخصوص رات کے اوقات میں عوام سکھ کی نیند سونے سے قاصر ہیں ،سب نیوز کے سروے کے مطابق راولپنڈی کے علاقے ڈھوک کالا خان ،شمس آباد ،کری روڈ ، صادق آباد ،صدر اور سکیم تھری سے لیکر دھمیال تک کے لوگوں کا کہنا تھا کہ ایک تو مہنگائی نے ہمارا جینا حرام کردیا ہے اور ہمیں ذہنی طورپر کرب میں مبتلا کررکھا ہے.
دوسری جانب دن کی تمام پریشانیوں اور تھکاوٹ کے لئے رات کو جب بستر پر جاتے ہیں تو بجلی کی آنکھ مچولی شروع ہو جاتی ہے ۔بعض علاقوں میں رات بارہ بجے ایک گھنٹے کیلئے بجلی جاتی ہے اور پھر دوتین گھنٹے بعد صبح پانچ بجے بجلی پھر غائب ہو جاتی ہے دو تین گھنٹے سے نیند کہاں پوری ہوتی ہے نیند کی کمی کے باعث صبح روز گار کی تلاش میں جانے کو من بھی نہیں کرتا جبکہ دفاتر میںجانے والے افراد کا کہنا تھا کہ ساری رات جاگ کر گزارنے کے بعد کام کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے ۔عوام نے وزیراعظم شہبازشریف سے مطالبہ کیا کہ وہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کا کوئی پائیدار حل نکالیں اور لوگوں کو ذہنی مریض بننے سے بچا لیں۔
