آبی وسائل کے وفاقی وزیر سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ پانی ذخیرہ کرنے کا واحد راستہ نئے ڈیموں کی تعمیر ہے نئے ڈیم چندے سے نہیں بنائے جاسکتے اگر آئندہ مالی سال کے بجٹ میں نئے ڈیموں کی تعمیر کے لئے 10 فیصد رقم بھی مختص کردی جائے تو صورتحال بہتر ہو جائے گی چولستان کو ہنگامی بنیادوں پر پانی فراہم کردیا گیا ہے ہمارے پانی سمیت ملک کے تمام وسائل پر آبادی میں اضافے کی وجہ سے بہت زیادہ بوجھ ہے 2030 تک اگر آبادی 30 کروڑ ہوگئی تو پانی تعلیم صحت سمیت دیگر وسائل پر بوجھ بہت زیادہ بڑھ جائے گا اس حوالے سے پارلیمنٹ کو منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔بدھ کو قومی اسمبلی میں غوث بخش مہر کے چولستان میں پانی کمی سے متعلق توجہ مبذول نوٹس کا جواب دیتے ہوئے آبی وسائل کے وفاقی وزیر سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ افسوسناک صورتحال ہے 1910 کے بعد اس طرح کی خشک سالی اور قحط کی صورتحال کا سامنا ہے۔ پانی کی کمی اگر برقرار رہی تو صورتحال تباہ کن ہو جائے گی۔انہوں نے کہا کہ تربیلا میں پانی 95 فیصد آرہا تھا اور 90 ہزار ہم جاری کر رہے تھے۔ اب تربیلا میں 60 ہزار کیوسک فٹ کابل میں 24 ہزار کیوسک فٹ آرہا ہے۔ اسی طرح منگلا میں بھی پانی کی کمی واقع ہو رہی ہے۔ 2014 میں یہ صورتحال ہوئی تھی مگر اس کے بعد بہتر ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے متعلقہ وزارت کو جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا۔یہ بہت بڑی کمی ہے۔ گدو پر پانی دو دن بعد اور کم ہو جائے گا۔ بلوچستان کو کل پانی صرف 2200 کیوسک فٹ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم موسمیاتی تبدیلیوں اور پانی کی کمی کی صورتحال پر کوئی کانفرنس بلائیں۔ توجہ مبذول نوٹس پر غوث بخش مہر مولانا عبدالاکبر چترالی اور ڈاکٹر محمد افضل ڈھانڈلہ کے سوالات کے جواب میں وفاقی وزیر سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ ٹیوب ویل جتنا بہتر ہے اتنا خطرناک بھی ہوتا ہے۔اس سے زیر زمین پانی جلد نکل جاتا ہے اور اس کی جگہ کڑوا پانی لیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے پنجاب کا پانی کم کردیا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ اس صورتحال میں اپنا کرم کرے۔ توقع ہے کہ 15 جون کے بعد پانی آنا شروع ہو جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ ٹینکرز مافیا کے حوالے سے سندھ حکومت سے بات کی جاسکتی ہے۔چولستان کے عوام کو ہنگامی صورتحال میں پانی پہنچا دیا ہے جس پر وزیراعلی پنجاب نے شکریہ بھی ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کے ساتھ بہت بڑا کھلواڑ ہوتا رہا ہے ہمارے پاس پانی موجود ہے۔ بھارت کی جانب سے ایک بوند پانی بھی نہیں چھوڑا گیا۔ پانی ذخیرہ کرنے کا واحد راستہ ڈیم ہیں۔اگر ہم نے آئندہ چار پانچ سالوں میں ڈمی نہ بنائے تو صورتحال سنگین ہو جائے گی۔ چندوں سے ڈیم نہیں بن سکتے ہیں۔ اس سال پی ایس ڈی پی میں وافر رقم مختص کرنے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں نورانگ ڈیم بننے سے دو لاکھ ایکڑ زمین آباد ہو سکتی ہے۔
پانی ذخیرہ کرنے کا واحد راستہ نئے ڈیموں کی تعمیر ہے،سید خورشید احمد شاہ
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
