پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ امپورٹڈ حکومت کے کشمیر کو نظرانداز کر کے بھارت کے ساتھ تجارتی معاملات آگے بڑھانے کے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہیں
،جب تک بھارت کشمیر پر کیے گئے غیر قانونی اقدامات واپس نہیں لیتا ان سے کوئی روابط قائم نہیں کئے جا سکتے، امپورٹڈ حکومت کے بھارت کے ساتھ روابط بڑھانے کا معاملہ انتہائی تشویشناک ہے،عمران خان کی زیر صدارت پی ٹی آئی مرکزی قیادت کے اہم اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر رپورٹ ہوا اسرائیل کا ایک ساتھ وفد پہنچا جس میں ایک پاکستانی بھی شامل تھا،اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات پاکستانیوں کو منظور نہیں،کہا گیا کہ ایف آئی اے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے مقدمات واپس لینے کا ارادہ رکھتی ہے،
پاکستانی عوام کے پیسوں کے کیسز ہیں کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ واپس لے، مقدمات واپس لینے کے اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ،سپریم کورٹ سے اپیل کرتے ہیں کہ اداروں کو تحفظ فراہم کریں، ابھی تو ایف آئی اے کے سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر رضوان کی قبر کی مٹی نہیں سوکھی اور مقدمات واپس ہونا شروع ہوگئے، مریم شریف کو رینجرز کی سیکیورٹی فراہم کرنا قابل مذمت عمل ہے سابق وزیراعظم عمران خان کی سیکیورٹی واپس لے لی گئی اور ایک مجرمہ کو سیکورٹی فراہم کر دی گئی ،آج عمران خان اٹک جلسے میں ایک اہم پیغام دیں گے حقیقی آزادی مارچ میں لاکھوں لوگ اسلام آباد آنے کو تیار ہے،فواد چوہدرییہ ایک ایسا احتجاج ہوگا جس کی مثال ایشیا میں نہیں ملے گی۔
