ہومUncategorizedپی ٹی آئی کے الزامات مسترد،الیکشن کمیشن نے اعتراضات کے جواب دے دیے

پی ٹی آئی کے الزامات مسترد،الیکشن کمیشن نے اعتراضات کے جواب دے دیے

الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف کی طرف ستے عائد کیے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے قانونی اور آئینی دائرے میں رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے،

جاری اعلامیہ کے مطابق کمیشن نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے جو مکمل غیر جانبداری کے ساتھ اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریاں سر انجام دے رہا ہے۔ اور ملک کے بہترین مفاد میں اور بغیر کسی دباو یا ترغیب کے آئندہ بھی ایسا کرتا رہے گا۔ قومی اسمبلی کے 20 ممبران کے خلاف سپیکر نیشنل اسمبلی نے آرٹیکل 63(A) کے تحت Declarations مورخہ 14اپریل 2022کو چیف الیکشن کمشنر کو بھجوائے ۔ جن پر الیکشن کمیشن میں سماعت 28 اپریل کو ہو گی۔ صوبائی اسمبلی کے 26 ممبران کے خلاف اسپیکر پنجاب اسمبلی نے آرٹیکل 63(A) کے تحت Declarations مورخہ20 اپریل 2022 کو چیف الیکشن کمشنر کو بھجوائے ۔ ان تمام ممبران کو مورخہ 6 مئی 2022 کے لئے نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں۔ مزیدبراں متعلقہ سیاسی پارٹی کو بھی نوٹس مذکورہ بالا تاریخوں کے لئے نوٹس جاری کئے گئے ہیں ۔ یہ واضح کیا جاتا ہے کہ آرٹیکل 63 (A) کے تحت الیکشن کمیشن Declarations موصول ہونے کے 30دن کے اندر ان پر فیصلہ کرنے کا مجاز ہے ۔ فارن فنڈنگ کیس کی سماعت میں تاخیر کے حوالے سے بعض حلقوں سے جو غیر ذمہ دارانہ بیان دیئے جا رہے ہیں ان کی سختی سے تردید کی جاتی ہے

۔ الیکشن کمیشن میں PTI, PPPP, PPP اور PMLN کے فارن فنڈنگ سے متعلق جو درخواستیں موصول ہوئیں ان پر سکروٹنی کمیٹی اپنا کام کر رہی ہے ۔ سکروٹنی کمیٹی نے PTI سے متعلق فنڈنگ کیس کی رپورٹ دسمبر میں الیکشن کمیشن کو جمع کروائی جس کو الیکشن کمیشن کے سامنے باقاعدہ سماعت کے لئے مقرر کیا گیا جو کہ اب اختتامی مراحل میں ہے ۔ اورجواب دہندہ کے فائنل (Arguments) جاری ہیں ۔ کمیشن نے 29,28,27 اپریل 2022 کو PTI کے وکیل کے فائنل دلائل کے لئے سماعت مقررکی ہے۔ اسی طرح PPP, PPPP اور PMLN کے کیسز پر کاروائی کے لئے سکروٹنی کمیٹی نے 9 مئی 2022 کی تاریخ مقرر کی ہے اور پارٹیوں سے ضروری ریکارڈ طلب کیا گیا ہے ۔ اس ضمن میں الیکشن کمیشن نے 28 اپریل 2022 کو چیر مین سکروٹنی کمیٹی سے مزکورہ بالا کیسز کی کاروائی سے متعلق رپورٹ طلب کی ہے ۔ تمام فارن فنڈنگ کیسوں کی سماعت اور کاروائی میں تاخیر پارٹیوں کی طرف سے مختلف وجوہات کی بنا پر التوا کی وجہ سے ہوتی رہی ہے ۔ عامر محمود کیانی نے مورخہ20 جنوری 2020کو الیکشن کمیشن میں 101 سیاسی جماعتوں بشمول PTI کی سال 2014 سے سال 2018 تک اکاونٹس کی سکروٹنی کے لئے درخواست جمع کروائی ۔ جس پر کمیشن نے اپنے طور پر تمام پارٹیوں کے -2-اکاونٹس کی سکروٹنی کے بعد 18 سیاسی پارٹیوں کو مورخہ 03 فروری 2020 کو نوٹس جاری کر کے 18 فروری 2020 کو باقاعدہ سماعت کے لئے مقرر کیا ۔ اس کیس میں بھی سیاسی پارٹیاں تاخیری حربے استعمال کر رہی ہیں۔

جن سیاسی پارٹیوں نے جوابات جمع نہیں کروائے اور نہ ہی کمیشن کے سامنے پیش ہوئیں ان کے خلاف یکطرفہ کاروائی عمل میں لائی جا چکی ہے ۔ اس کیس کو بھی الیکشن کمیشن نے آخری سماعت کے لئے مقرر کر دیا ہے واضح رہے کے الیکشن کمیشن بلا امتیاز تمام پارٹیوں کے کیسز سے متعلق کاروائی عمل میں لا رہا ہے ۔ مزید برآں الیکشن کمیشن کو Ministry of Planning Development and special initiatives ) پاکستان بیور وآ ف سٹیٹکس ( سے 18اپریل 2022 کا جاری شدہ ایک لیٹر ملا ہے جس کے تحت ملک بھر میں 7thپاپولیشن اور ہاوسنگ Census یکم اگست 2022 سے شروع ہوگا اور اس کے رزلٹ الیکشن کمیشن کو 31 دسمبر 2022 کو مہیا کئے جائینگے ۔ اگر ایسا ہے تو الیکشن کمیشن آج کل 2017کی بنیاد پر جو مردم شماری کر رہا ہے وہ (Irrelevant) ہو جائے گی اور الیکشن کمیشن آئین کے تحت اس کا پابند ہوگا کہ وہ یکم جنوری 2023سے نئی حلقہ بندیاں شروع کرے جس کے لئے کم ازکم چار مہینے کا عرصہ درکار ہے ۔ اسی طرح انتخابی فہرستوں پر دوبارہ نظر ثانی درکار ہوگی کیونکہ نئی مردم شماری کے دوران شماریاتی بلاک کوڈوں میں اضافہ اور ان کی حدود میں ردوبدل کیا جاتا ہے ۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔