اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )وفاقی وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے کہاکہ ڈیجیٹل میڈیا ونگ میں پاکستان تحریک انصاف کے لوگوں کو رکھا گیا، جب پی ٹی آئی کی حکومت گئی تو ڈیجیٹل میڈیا ونگ سے سے 80 فیصد لوگ مستعفی ہو گئے، جن لوگوں کی بھرتی قواعد کے تحت ہوئی انہیں وزارت اطلاعات کے سائبر ونگ میں ضم کر دیا جائے گا، ہم کسی کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کریں گے،
مریم اورنگزیب نے کہا کہ سابق دور میں ڈیجیٹل میڈیا ونگ کا مقصد صرف پروپیگنڈا کرنا تھا، ڈیجیٹل میڈیا ونگ کو اداروں، صحافیوں، پارلیمنٹیرینز اور میڈیا کے خلاف استعمال کیا گیا، پاکستان کے عوام کا پیسہ اس کام پر خرچ نہیں ہو سکتا، بوٹ ٹویٹس اور سافٹ ویئر کو استعمال کرتے ہوئے پوری مہم چلائی جاتی تھی۔انہوں نے کہا کہ وہ تمام بوٹ ٹویٹس کے ٹویٹر ہینڈلرز ہمارے پاس آ گئے ہیں، عمران خان کو بھی پتہ ہے کہ سوشل میڈیا پر اب روبوٹس ہی ان کا ساتھ دیں گے، حقیقی طور پر وہ سوشل میڈیا پر اپنی جگہ نہیں بنا سکتے، وزیراعظم نے نیشنل سیکورٹی کی پارلیمانی کمیٹی کا اعلان کر دیا ہے، کابینہ کی تشکیل میں تاخیر کی وجہ سے اس کمیٹی کا اجلاس نہیں ہو سکا، نیشنل سیکورٹی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس جلد ہوگا،
پاکستان کے عوام کے سامنے ساری حقیقت آ جائے گی، میڈیا کے ساتھ تعلق ذاتی ہے، میڈیا کو ہمیشہ اپنے ساتھ پایا، میڈیا کے مسائل کے حل کے لئے مل کر کوششیں کریں گے، مریم اورنگزیب نے کہا کہ پونے چار سال صحافیوں، میڈیا ورکرز اور میڈیا ہائوسز کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ سیاہ دور تھا، سابق دور میں اظہار رائے کی آزادی پر قدغنیں لگائی گئیں، صحافیوں کو اغوا کیا گیا، ان پر تشدد کیا گیا، ملک میں عدم برداشت کے کلچر کے خاتمے کے لئے میڈیا کو بھی آگے آنا ہوگا، معاشرے میں عدم برداشت کی جو روایات جنم لے رہی ہیں انہیں ختم ہونا چاہئے، آٹھویں ویج بورڈ ایوارڈ کے وقت میڈیا کے ساتھ مل کر کام کیا، میڈیا ورکرز کے مسائل سننے کے لئے پی آئی ڈی میں دو روز بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے، میڈیا کے تمام افراد مجھ سے وہاں مل سکتے ہیں۔
